’زرعی ٹرانسفارمیشن پلان‘‘ کے تحت منی ڈیمز کی الاٹمنٹ کے لیے قرعہ اندازی

جہلم: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ’’مریم نواز کا خواب، سونا اُگلتا پنجاب‘‘ اور ’’پوٹھوہار کے لیے زرعی ٹرانسفارمیشن پلان‘‘ کے تحت محکمہ زراعت پنجاب، سوئل کنزرویشن ڈیپارٹمنٹ کے زیرِ اہتمام ضلع جہلم میں منی ڈیمز کی الاٹمنٹ کے لیے قرعہ اندازی کی تقریب منعقد ہوئی۔

تقریب میں ڈائریکٹر جنرل سوئل کنزرویشن پرویز سکندر اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو جہلم نے بطور مہمانانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ ان کی موجودگی میں شفاف طریقہ کار کے تحت کامیاب کسانوں کا انتخاب کیا گیا۔

حکومت پنجاب کے اس منصوبے کے تحت مالی سال 2026-27 کے دوران پوٹھوہار کے مخصوص اضلاع جہلم، راولپنڈی، مری، اٹک، چکوال اور تلہ گنگ میں مختلف زرعی منصوبے 70 فیصد سبسڈی پر شروع کیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد بارانی علاقوں میں پانی کی دستیابی بہتر بنانا، زرعی زمین کی استعداد میں اضافہ کرنا، کاشتکاروں کو سہولت فراہم کرنا اور زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن بنانا ہے۔

منصوبے کے تحت 150 منی ڈیمز کی تعمیر کے لیے ایسے کاشتکار یا جوائنٹ کاشتکار اہل قرار دیے گئے ہیں جن کے پاس کم از کم 25 ایکڑ اراضی موجود ہو۔ اس منصوبے کے تحت فی منی ڈیم زیادہ سے زیادہ ایک کروڑ 75 لاکھ روپے (17,500,000 روپے) تک مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

محکمہ زراعت کے مطابق منی ڈیمز کے لیے درخواست دہندگان کی تعداد زیادہ ہونے کی صورت میں الاٹمنٹ کے لیے قرعہ اندازی کا طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے۔ اسی طریقہ کار کے تحت ضلع جہلم میں منعقدہ تقریب کے دوران کامیاب کسانوں کا انتخاب کیا گیا۔

اسی زرعی ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت بلڈوزر کے ذریعے زرعی اراضی کی ہمواری و اصلاح کے لیے بھی سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت مجموعی طور پر 2250 ایکڑ رقبے کی ہمواری و اصلاح شامل ہے، جبکہ اہل کاشتکار کے لیے کم از کم 25 ایکڑ رقبہ اور پانی کے ذخیرے کے قریب ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت فی ایکڑ 77 ہزار روپے کی سبسڈی فراہم کی جائے گی، تاہم زیادہ سے زیادہ 5 ایکڑ تک کی ہمواری و اصلاح کے لیے مالی معاونت دی جائے گی۔

محکمہ زراعت کے مطابق جالی دار باڑ بندی (Fencing) کی سہولت بھی اس منصوبے کا حصہ ہے، تاہم یہ سہولت صرف ضلع مری کی تحصیل مری اور کوٹلی ستیاں کے لیے مختص ہے۔ اس اسکیم کے تحت زمیندار کی متصل اراضی کم از کم 12 کنال ہونا ضروری ہے، جبکہ 10 کنال تک باڑ بندی کے لیے زیادہ سے زیادہ 10 لاکھ 3 ہزار روپے کی امدادی رقم مقرر کی گئی ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل سوئل کنزرویشن پرویز سکندر اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو جہلم نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے زرعی ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت شروع کیے گئے ان منصوبوں سے بارانی علاقوں میں پانی کی دستیابی بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہوسکے گا۔

حکام نے کہا کہ بارانی علاقوں میں پانی کی دستیابی زرعی پیداوار کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے، اس لیے منی ڈیمز کی تعمیر سے نہ صرف پانی کے ذخیرے میں اضافہ ہوگا بلکہ کاشتکاروں کو زرعی ضروریات کے لیے پانی کی بہتر دستیابی بھی حاصل ہوسکے گی۔

محکمہ زراعت کی جانب سے بتایا گیا کہ منی ڈیمز کی الاٹمنٹ کے لیے درخواستیں زیادہ موصول ہونے کے باعث قرعہ اندازی کا طریقہ کار اپنایا گیا ہے تاکہ کامیاب کاشتکاروں کا انتخاب شفاف انداز میں کیا جاسکے، جبکہ زمین کی ہمواری و اصلاح کے لیے الاٹمنٹ ’’پہلے آئیں، پہلے پائیں‘‘ کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔

محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق ان منصوبوں سے متعلق تمام شرائط و ضوابط اور درخواست فارم محکمہ زراعت پنجاب کی ویب سائٹ www.agripunjab.gov.pk پر بھی دستیاب ہیں، جہاں سے اہل کاشتکار منصوبوں کی تفصیلات، اہلیت کے معیار اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button