پی ٹی آئی لانگ مارچ؛ پنجاب میں دفعہ 144 نافذ، رینجرز طلب، ضلع جہلم کو 10 مقامات سے بند کرنے کی تیاریاں

جہلم:‌پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو متوقع لانگ مارچ اور احتجاج کے پیشِ نظر پنجاب میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

پنجاب حکومت نے قیامِ امن اور سکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کی تعیناتی کے لیے وفاقی حکومت سے باضابطہ درخواست کر دی ہے، جبکہ پنجاب بھر میں 23 ستمبر سے 5 اکتوبر 2026 تک دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔

محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے وزارتِ داخلہ کو بھیجے گئے مراسلے کے مطابق رینجرز کی تعیناتی 5 اکتوبر 2026 تک طلب کی گئی ہے۔ مجوزہ تعیناتی کے تحت راولپنڈی میں رینجرز کی 3 کمپنیاں، اٹک میں 5 ونگز جبکہ جہلم اور میانوالی میں ایک، ایک کمپنی تعینات کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ یہ درخواست پنجاب پولیس کی جانب سے اضافی سکیورٹی معاونت طلب کیے جانے کے بعد کی گئی۔

پنجاب حکومت کے مطابق رینجرز کی خدمات امن و امان برقرار رکھنے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے طلب کی گئی ہیں۔ محکمہ داخلہ کے مطابق اس تعیناتی کی منظوری پنجاب کی کابینہ کمیٹی برائے قانون و امن و امان کے 59ویں اجلاس میں دی گئی تھی۔

دوسری جانب پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد عوامی مقامات، سڑکوں، شاہراہوں اور کھلی جگہوں پر پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ عوامی مقامات پر ہر قسم کے ہتھیار لے جانے اور ان کی نمائش، غیر قانونی اجتماعات میں لوگوں کو شرکت کے لیے اکسانے یا ترغیب دینے پر بھی پابندی ہوگی۔

حکام کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق 23 ستمبر سے 5 اکتوبر 2026 تک رہے گا۔ تاہم پابندی کا اطلاق شادی کی تقریبات، نمازِ جنازہ، تدفین، مساجد اور دیگر عبادت گاہوں پر نہیں ہوگا۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اقدامات صوبے میں عوامی امن، سکون اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے پیشِ نظر کیے گئے ہیں۔

جہلم کے 10 مقامات پر آمدورفت روکنے کی تیاریاں

ادھر جہلم میں پاکستان تحریک انصاف کے ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظر دریائے جہلم کے پلوں اور اہم داخلی و خارجی راستوں کی بندش کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق ضلع جہلم کے تقریباً 10 مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کرکے آمدورفت محدود یا بند کیے جانے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

مقامی اطلاعات کے مطابق دریائے جہلم کے پلوں کے اطراف کنٹینرز اور ٹریلرز کی لمبی قطاریں پہنچا دی گئی ہیں، جبکہ بعض مقامات پر سڑکوں کے کنارے ریت کے ڈھیر بھی لگائے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پولیس کی جانب سے بڑی گاڑیوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی جاری ہے اور متعدد بڑی گاڑیوں کو تحویل میں لے کر فوجی گراؤنڈ میں کھڑا کیا گیا ہے۔ مزید پولیس نفری کی تعیناتی کی تیاریاں بھی جاری ہیں، جبکہ دوسرے اضلاع سے اضافی پولیس نفری طلب کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق دریائے جہلم کے کنارے ریت کے ٹیلوں کے ساتھ ساتھ داخلی اور خارجی راستوں پر بھی رکاوٹیں کھڑی کرنے کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق دریائے جہلم کے تینوں پلوں کو کسی بھی وقت بند کیا جا سکتا ہے۔

کنٹینرز کی وجہ سے ٹرانسپورٹرز پریشان

دوسری جانب کنٹینرز اور دیگر بڑی گاڑیوں کی موجودگی اور ممکنہ راستوں کی بندش کے باعث ٹرانسپورٹرز کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ وہ کھلے آسمان تلے گاڑیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، جبکہ ان کی گاڑیوں میں موجود لاکھوں روپے مالیت کا سامان بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ٹرانسپورٹرز نے کہا ہے کہ راستوں کی بندش اور گاڑیوں کو مختلف مقامات پر روکنے سے نہ صرف ان کے کاروباری معمولات متاثر ہو رہے ہیں بلکہ گاڑیوں میں موجود قیمتی سامان کے نقصان کا بھی خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

دریں اثنا، صوبائی حکومت کی جانب سے سکیورٹی انتظامات کے تحت رینجرز کی خدمات طلب کیے جانے اور دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد جہلم سمیت متعلقہ اضلاع میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سکیورٹی انتظامات مزید مؤثر بنانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button