اصول و ضوابط کے بغیر ایک گھر نہیں چل سکتا تو انسانی معاشرہ کیسے چلے گا؟، امیر عبدالقدیر اعوان

بالٹی مور: سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے شیخ امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا ہے کہ اگر اصول و ضوابط کے بغیر ایک گھر نہیں چل سکتا تو انسانی معاشرہ کیسے چل سکتا ہے؟ اسلام نے انسانی معاشرے کو چلانے کے لیے جو اصول اور ضابطے عطا کیے ہیں، وہ صرف صاحبِ ایمان کے لیے نہیں بلکہ تمام مخلوق کی بھلائی کے لیے ہیں۔ ان اصولوں پر عمل سے انسان میں ایسا مثبت اور متحرک کردار پیدا ہوتا ہے جو معاشرے میں دوسروں کی بھلائی کا سبب بنتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے امریکہ کی ریاست میری لینڈ کے شہر بالٹی مور میں واقع فاطمہ مسجد میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسلامی اصول و ضوابط کو انسانی معاشرے میں اپنایا جائے تو معاشرے میں بہتری کیوں نہیں آئے گی؟

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ اسلام انسانی مزاج کی خوبصورتی اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اسلامی تعلیمات پہلے اپنی عملی زندگی میں اختیار فرمائیں، پھر لوگوں کو تعلیم دی، تربیت فرمائی اور ان کی دستگیری بھی فرمائی۔ اللہ کریم نے اپنے فضل سے یہ تعلیمات ہم تک پہنچانے کے اسباب بھی عطا فرمائے۔ بندگی کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ پہنچا ہے اسے من و عن قبول کیا جائے اور جو احکامات عطا ہوئے ہیں ان پر غیر مشروط عمل کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انسان کو اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے کہ وہ کس نیت سے عمل کر رہا ہے۔ کیا اس کے عمل میں اتنا خلوص موجود ہے کہ وہ صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو، یا وہ اپنی ذات کی بڑائی اور لوگوں سے تعریف حاصل کرنے کے لیے نیکی کر رہا ہے تاکہ لوگ اسے پارسا اور نیک سمجھیں؟ اصل اہمیت نیت کے خلوص کی ہے۔

شیخ سلسلہ نے اسلامی تعلیمات میں عملی زندگی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ایک واقعہ کا حوالہ دیا کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی مالی تنگ دستی کا ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ گھر میں کیا موجود ہے؟ اس نے عرض کیا کہ کچھ سامان ہے۔ آپ ﷺ نے اسے وہ سامان بازار میں فروخت کرنے، کلہاڑا اور رسی خریدنے اور جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر بازار میں فروخت کرنے کی ہدایت فرمائی، تاکہ وہ محنت کے ذریعے اپنے خاندان کی کفالت کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں عملی زندگی کے لیے نہایت خوبصورت سبق موجود ہے۔ اپنے اہلِ خانہ کی ضروریات پوری کرنا بھی صدقہ ہے۔ اگر انسان اپنی زندگی کے روزمرہ امور اللہ کے حکم کے مطابق انجام دے تو یہی اعمال عبادت کا درجہ اختیار کر لیتے ہیں۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے تقویٰ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تقویٰ اور متقی کی کیفیت کو سمجھنے کے لیے انتہائی خلوص اور گہرے احساس کی ضرورت ہے۔ جب انسان کسی بات کو دل کی گہرائی سے قبول کرتا ہے تو اس کا عمل بھی اسی کے مطابق ہوتا ہے، کیونکہ اسے احساس ہوتا ہے کہ یہ حکم اس کے لیے ہے اور اس کے بارے میں اس سے جواب طلب کیا جائے گا۔ ہر عمل میں یہ خیال رکھنا کہ کہیں مجھ سے کوئی ایسا تجاوز نہ ہو جائے جس سے اللہ کریم ناراض ہوں، یہی تقویٰ ہے۔

یاد رہے کہ امیر عبدالقدیر اعوان کینیڈا اور امریکہ کے دورے پر ہیں، جہاں مختلف شہروں میں پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں اور وہ لیکچرز دے رہے ہیں۔ دورے کے سلسلے میں ان کا اگلا پروگرام امریکی ریاست ٹیکساس میں ہوگا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button