جہلم میں مزدوروں کا استحصال جاری، محکمہ لیبر کے افسران خاموش

جہلم: محکمہ لیبر کے ذمہ داران کی نااہلی کے باعث ضلع جہلم کی چاروں تحصیلوں میں سینکڑوں مزدوروں کا استحصال کھلے عام جاری ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں بھی محنت کشوں کو حکومت پنجاب کی مقرر کردہ کم از کم تنخواہ 37 ہزار روپے نہیں دی جارہی، اور وہ آج بھی 15 سے 20 ہزار روپے میں گزارہ کرنے پر مجبور ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ضلع جہلم کے کاروباری مراکز، پرائیویٹ اسکولز اور نجی اسپتالوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو نہ صرف کم تنخواہ دی جا رہی ہے بلکہ ان سے 12-12 گھنٹے کام لے کر استحصال کیا جا رہا ہے۔

خاص طور پر پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھانے والی خواتین اساتذہ اور نجی اسپتالوں میں کام کرنے والے ملازمین کو زبردستی کم تنخواہ پر راضی کیا جاتا ہے جبکہ دستخط زیادہ تنخواہ کے کاغذات پر کروائے جاتے ہیں۔

محکمہ لیبر کے متعلقہ افسران نے مبینہ طور پر تمام اداروں کے مالکان سے معاملات طے کر رکھے ہیں، جس کے نتیجے میں ان مالکان کو مزدوروں کے حقوق پامال کرنے کی کھلی چھوٹ حاصل ہے۔

عوامی و سماجی حلقوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری لیبر، ایڈوائزر اور صوبائی محتسب پنجاب سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مزدوروں کو حکومت کی مقرر کردہ اجرت اور اوقاتِ کار کے مطابق سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button