شہری سہولت اور سرکاری کارکردگی کا حقیقی معیار اسی وقت سامنے آتا ہے جب عام آدمی کو اپنے کام کے لیے در در کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں اور اسے عزت، سہولت اور بروقت انصاف میسر آئے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ٹریفک برانچ جیسے اہم شعبے سے متعلق ہمیشہ شکایات ہی سننے کو ملتی رہی ہیں۔ طویل انتظار، غیر ضروری پیچیدگیاں اور عملے کا غیر سنجیدہ رویہ اکثر شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بنتا رہا، مگر حالیہ دنوں میں ایک خوش آئند تبدیلی نے اس تاثر کو کافی حد تک بدل دیا ہے اور عوام میں امید کی ایک نئی لہر پیدا کی ہے۔
افتخار احمد (انچارج ٹریفک برانچ) کی تعیناتی کے بعد اس شعبے میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ جہاں پہلے ڈرائیونگ لائسنس کا حصول ایک مشکل، صبر آزما اور وقت طلب مرحلہ سمجھا جاتا تھا، وہیں اب یہی عمل نہایت آسان، منظم اور شفاف ہو چکا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اب نہ صرف ان کے کام تیزی سے ہو رہے ہیں بلکہ عملے کا رویہ بھی خوشگوار، مہذب اور مددگار بن چکا ہے، جو کسی بھی سرکاری ادارے کی پہچان ہونا چاہیے۔
اس مثبت تبدیلی میں ڈی ایس پی ٹریفک خرم فیاض ستی کا کردار بھی انتہائی اہم اور قابلِ تحسین ہے، جن کی مؤثر نگرانی، بہترین انتظامی صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ حکمتِ عملی نے پورے نظام کو ایک نئی سمت دی ہے۔ ان کی قیادت میں افتخار احمد اور دیگر عملہ ایک مضبوط ٹیم کی صورت میں کام کرتے ہوئے عوامی خدمت کو یقینی بنا رہے ہیں، جو کہ کسی بھی ادارے کی کامیابی کی بنیادی شرط ہوتی ہے۔
خاص بات یہ ہے کہ اب روزانہ کی بنیاد پر درجنوں لائسنسز کا اجرا کیا جا رہا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نظام میں بہتری محض دعوؤں تک محدود نہیں بلکہ عملی طور پر نظر آ رہی ہے۔ جدید طریقۂ کار، بہتر نظم و ضبط اور واضح رہنمائی نے شہریوں کا قیمتی وقت بچایا ہے اور غیر ضروری تاخیر کا خاتمہ کیا ہے۔ اس تیزی اور شفافیت نے نہ صرف عوام کا اعتماد بحال کیا ہے بلکہ سرکاری اداروں کے مثبت امیج کو بھی مضبوط کیا ہے۔
مزید برآں، شہریوں کو درپیش مسائل کے فوری حل کے لیے رہنمائی کا بہتر نظام بھی قائم کیا گیا ہے، جس کے تحت ہر آنے والے سائل کو مناسب معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ ٹریفک برانچ اب صرف ایک دفتری ادارہ نہیں بلکہ عوامی خدمت کا حقیقی مرکز بنتی جا رہی ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ افتخار احمد (انچارج ٹریفک برانچ)، ڈی ایس پی خرم فیاض ستی اور ان کی پوری ٹیم نے ایک ایسی مثال قائم کی ہے جسے دیگر سرکاری اداروں کے لیے مشعلِ راہ ہونا چاہیے۔ اگر اسی جذبے، دیانت داری اور محنت کے ساتھ کام جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب عوامی خدمت کا معیار مزید بلند ہوگا اور شہری حقیقی معنوں میں ریلیف اور اطمینان محسوس کریں گے۔
(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)
