جہلم: حکومت کا اتائی ڈاکٹروں کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے نیا ٹربیونل قائم کرنے کا فیصلہ

جہلم: پنجاب حکومت نے جہلم سمیت صوبہ بھر میں اتائی ڈاکٹروں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ڈرگ کورٹس کی ازسر نو تشکیل اور ایک نیا عدالتی نظام قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
اس سلسلے میں حکومت پنجاب نے ایک خصوصی بل پنجاب اسمبلی میں پیش کیا ہے، جسے منظوری کے لیے ایوان میں زیر غور لایا گیا ہے۔
بل کے مطابق ڈرگ کیسز کی سماعت کے لیے ایک نیا ٹربیونل قائم کیا جائے گا، جو ایک سیشن جج اور دو ماہرین پر مشتمل ہوگا۔ ٹربیونل کے سیشن جج کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ تین سالہ مدت کے لیے نامزد کریں گے، جبکہ حکومت پنجاب دو ماہرین — جن کا صحت اور قانون کے شعبے میں وسیع تجربہ ہوگا — کو بھی تین سال کے لیے تعینات کرے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صوبے بھر میں غیر قانونی، غیر تربیت یافتہ اور اتائی ڈاکٹروں کی روک تھام کے لیے نہایت ضروری ہو چکا تھا، کیونکہ اتائی ڈاکٹرز کی وجہ سے نہ صرف عوام کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے بلکہ صحت کا پورا نظام متاثر ہوتا ہے۔



