سردی کی آمد کے ساتھ ہی جہلم کی سڑکوں کے دونوں اطراف باسی مچھلی کا کاروبار عروج پکڑ گیا

جہلم: سردی کی آمد کے ساتھ ہی شہرکی سڑکوں کے دونوں اطراف باسی مچھلی کا کاروبار عروج پکڑ گیا۔ شہر میں گیسٹرو سمیت دیگر بیماریاں پھیلنے کا خدشہ لاحق، شہریوں نے پنجاب فوڈ اتھارٹی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق شہر میں مچھلی کا کاروبار کرنے والے افراد نے سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی باسی اور بد بودار مچھلی فروخت کرنا شروع کر رکھی ہے ۔ بد بودار مچھلی کو دریائے جہلم کی مچھلی کاکہہ کر فروخت کیا جا رہا ہے۔

ریڑھیوں ، لوڈر رکشوں پر سجائی گئی مچھلیوں کی آنکھیں اندر کو دھنسی اور گلپھڑے سیاہی مائل ہونے کے باوجود گاہک کی آنکھوں میں دھول جھونک کر دھڑلے سے باسی مچھلی فروخت کی جا رہی ہے۔ کھٹارا اور پیٹی نما پرانے فریزر میں کئی کئی دن کی پڑی خراب مچھلیوں کو نمک اور اجوائن لگا کر فریش بنا کر گاہکوں کو تھمادی جاتی ہے۔

بڑے بڑے مچھلی فروخت کرنے والے ہوٹلزمالکان باسی مچھلی کے سب سے بڑے گاہک ہیں اورچٹ پٹے خوشبو دار مصالحے لگا کر مزید مچھلی کو صحت کے لیے مضر صحت بنا کر گاہکوں کو کھلا نے میں مصروف ہیں ،جس کے استعمال سے ہسپتالوں میں گزشتہ کئی روز سے پیٹ سمیت الرجی اور دیگر بیماریوں میں مبتلا مریض داخل ہو رہے ہیں۔

شہریوں نے ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ذمہ داران سے مطالبہ کیاہے کہ باسی مچھلی فروخت کرنے والے دکانداروں کے خلاف کریک ڈاؤن کر کے باسی اور بد بودار مچھلی کے سٹاک کو تلف کیے جائیں اور باسی مچھلی فروخت کرنے والے دکانداروں کے خلاف قانونی کارروائیاں عمل میں لائی جائیں تاکہ شہریوں کو بیماریوں سے بچایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button