جہلم شہر سمیت چاروں تحصیلوں میں مہنگائی کا جن مکمل طور پر بے قابو ہو گیا۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہونے سے غریب اور مزدور طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ آٹا، چینی، کوکنگ آئل، سبزیاں، پھل اور دیگر ضروری اشیاء اب عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو چکی ہیں۔ ٹماٹر کی قیمت 400 سے 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے، جبکہ دیگر سبزیوں اور پھلوں کے نرخ بھی آسمان کو چھو رہے ہیں۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، لوگ روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں، اور متوسط طبقہ تیزی سے غربت کی لکیر کے قریب پہنچ رہا ہے۔
موجودہ معاشی صورتحال کے باعث کاروباری طبقہ، مزدور، دکاندار اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کے افراد بھی شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔
شہریوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں، جس سے معاشرتی بے چینی اور اقتصادی عدم استحکام میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ تیل، بجلی اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سخت فیصلے کیے جائیں، جبکہ بھٹہ مالکان، سیمنٹ، ریت، بجری اور سریا کے نرخوں پر بھی مؤثر کنٹرول کیا جائے۔ شہریوں نے اربابِ اختیار سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
