جہلم سمیت پنجاب بھر میں پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے اراضی کی فروخت بذریعہ رجسٹری کو لازم قرار دیتے ہوئے بیچ زبانی (زبانی بیع) کا اختیار ختم کر دیا ہے۔
نئے طریقۂ کار کے مطابق فروخت کنندہ کو پہلے آفیشل اراضی ریکارڈ سنٹر سے فردِ اراضی حاصل کر کے رجسٹری کی تصدیق کروانا ہوگی۔ ای رجسٹری کے ذریعے جہاں سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، وہیں متعدد عملی مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں۔
ای رجسٹری نظام میں سب سے بڑا مسئلہ عمر رسیدہ بزرگ شہریوں کو درپیش ہے، جن کے بائیو میٹرک انگوٹھوں کی تصدیق اکثر اوقات ممکن نہیں ہو پاتی۔ بزرگ افراد جب اراضی ریکارڈ سنٹر پہنچتے ہیں تو طویل انتظار کے بعد باری آنے پر انگوٹھے کی تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے انہیں معذوری ٹوکن حاصل کرنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے پہلے انہیں نادرا سنٹر لے جانا لازم ہوتا ہے۔ اگر خوش قسمتی سے وہاں کام جلد مکمل ہو جائے تو دوبارہ اراضی ریکارڈ سنٹر سے فرد جاری ہوتی ہے، تاہم رجسٹری کی تصدیق کے وقت دوبارہ بائیو میٹرک درکار ہوتا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اکثر اوقات انٹرنیٹ سست ہونے یا سسٹم بند ہونے کے باعث بائیو میٹرک تصدیق دوبارہ ناکام ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں بزرگ شہریوں کو کم از کم دو مرتبہ تحصیل دار آفس جانا پڑتا ہے۔ مزید برآں تحصیل دار کی ہمہ وقت عدم موجودگی اور سسٹم کی خرابی کے باعث سائلین کو شدید ذہنی اذیت اور وقت و پیسے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
شہری حلقوں نے اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ ای رجسٹری کا اقدام مجموعی طور پر بہتر اور شفافیت کی جانب ایک مثبت قدم ہے، تاہم ان کا مطالبہ ہے کہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی فوری طور پر رجسٹرار آفس کے انٹرنیٹ نیٹ ورک اور پی ایل آر اے کے سسٹمز کی رفتار اور استحکام کو اپ ڈیٹ کرے، تاکہ آنے والے سائلین خصوصاً بزرگ شہریوں کی مشکلات کا خاتمہ ممکن ہو سکے اور نظام واقعی عوام دوست بن سکے۔
