کھیوڑہ نمک کان میں انوکھا کلینک; دمہ اور سانس کے مریض صحت یاب ہونے لگے

پنڈدادنخان: ضلع جہلم میں واقع کھیوڑہ نمک کی کان میں قائم سالٹ مائن ایستھما کلینک دمہ، الرجی اور سانس کی مختلف بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے ایک منفرد طبی مرکز کے طور پر سامنے آیا ہے۔
پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (PMDC) کے زیرِ انتظام اس زیرِ زمین مرکز میں مریضوں کو قدرتی نمک کے ماحول میں وقت گزارنے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، جسے طبی اصطلاح میں اسپیلیو تھیراپی (Speleotherapy) کہا جاتا ہے۔
کھیوڑہ نمک کان کے اندر قائم اس مرکز کی خاص بات یہ ہے کہ مریضوں کو نمک کی کان کے قدرتی ماحول میں مخصوص دورانیے تک قیام کروایا جاتا ہے۔ اس طریقۂ علاج کے حوالے سے یہ مؤقف پیش کیا جاتا ہے کہ زیرِ زمین نمکی ماحول سانس کی بعض بیماریوں اور الرجی کی علامات میں مبتلا افراد کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
نمک کی کان کے اندر کا ماحول سطحِ زمین کے مقابلے میں نسبتاً پرسکون اور معتدل رہتا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق کان کے مخصوص حصے میں درجہ حرارت تقریباً 18 سے 20 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہتا ہے۔ مریضوں کی سہولت کے لیے کلینک میں بیٹھنے اور آرام کرنے کے لیے نشست گاہ، لاؤنج اور بیڈز بھی موجود ہیں، جہاں مریض اپنے علاج کے مقررہ دورانیے کے دوران آرام کر سکتے ہیں۔
کلینک میں مریضوں کے لیے مخصوص مدت کا کورس تجویز کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جس کے دوران انہیں روزانہ کئی گھنٹے نمک کی کان کے اندر موجود ماحول میں گزارنے ہوتے ہیں، جبکہ رات کے وقت قیام کے لیے انہیں کان سے باہر لایا جاتا ہے۔
اسپیلیو تھیراپی کے حوالے سے بعض رپورٹس میں دمہ اور الرجی کے مریضوں میں علامات میں بہتری کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس طریقۂ علاج کی مؤثریت ہر مریض میں یکساں ہونا ضروری نہیں اور اسے باقاعدہ طبی علاج کا متبادل نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ دمہ اور سانس کی دائمی بیماریوں کے مریضوں کو اپنے معالج کے مشورے کے مطابق تجویز کردہ ادویات جاری رکھنی چاہئیں۔
کھیوڑہ سالٹ مائن ایستھما کلینک کی منفرد نوعیت کے باعث پاکستان کے مختلف علاقوں سے مریض یہاں کا رخ کرتے ہیں، جبکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور دیگر افراد کی جانب سے بھی اس مرکز میں دلچسپی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ قدرتی زیرِ زمین ماحول میں قائم یہ مرکز کھیوڑہ نمک کان کی طبی اور سیاحتی اہمیت میں بھی اضافہ کرتا ہے۔



