جہلم شہر اور ضلع کے مختلف علاقوں میں مبینہ طور پر آن لائن اور روایتی جوئے کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ شہریوں نے نوجوان نسل کو اس سماجی برائی سے بچانے کے لیے مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
مقامی ذرائع اور عوامی شکایات کے مطابق مشین محلہ، شمالی محلہ، باغ محلہ، جادہ، بلال ٹاؤن، محمدی چوک، کالا گجراں اور دیگر علاقوں میں بعض افراد مبینہ طور پر کرکٹ، فٹبال اور دیگر قومی و بین الاقوامی کھیلوں پر غیر قانونی شرط بازی میں ملوث ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بعض مقامات پر موبائل فونز، واٹس ایپ گروپس اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی مبینہ طور پر شرط بازی کا نیٹ ورک سرگرم ہے۔
ذرائع کے مطابق بعض نوجوان فوری مالی فائدے کی امید میں اس غیر قانونی سرگرمی کی جانب راغب ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں انہیں مالی نقصان اور دیگر سماجی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں نے مبینہ طور پر مختلف علاقوں میں سرگرم افراد اور ان کے سہولت کاروں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنا شروع کر دی ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے کسی باضابطہ کارروائی یا سرکاری بیان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
سماجی اور مذہبی حلقوں نے کہا ہے کہ جوا نہ صرف قانوناً ممنوع عمل ہے بلکہ یہ معاشرتی بگاڑ، مالی مشکلات اور خاندانی مسائل کو بھی جنم دیتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ نوجوان نسل کو اس لعنت سے بچانے کے لیے مؤثر اور بلاامتیاز قانونی کارروائیاں عمل میں لائی جائیں۔
