میرٹ، شفاف تفتیش اور زیرو ٹالرنس سے ہی جہلم پولیس کو مثالی بنایا جائے گا، ڈی پی او جہلم طارق عزیز سندھو

14

جہلم: ڈی پی او جہلم طارق عزیز سندھو کی زیرِ صدارت ڈی پی او آفس جہلم میں ایک اہم ویڈیو لنک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ضلع بھر کے تمام ایس ایچ اوز نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی جبکہ ڈی پی او آفس کی مختلف برانچز کے انچارجز بھی میٹنگ میں شریک ہوئے۔

میٹنگ کے دوران ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم نے افسران کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ پولیس افسران اور اہلکار اپنی ذمہ داریاں فرض شناسی، ایمانداری اور مکمل پیشہ ورانہ انداز میں سرانجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع میں امن و امان کے قیام، عوام کے جان و مال کے تحفظ، الرٹ ڈیوٹی، مؤثر گشت اور دورانِ ڈیوٹی نظم و ضبط کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ بروقت رسپانس اور ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کو بھی لازمی قرار دیا گیا۔

ڈی پی او جہلم طارق عزیز سندھو نے خصوصی طور پر اس امر پر زور دیا کہ خواتین، بچوں اور معاشرے کے دیگر کمزور طبقات کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ایسے کسی بھی واقعے کی اطلاع موصول ہونے کی صورت میں متعلقہ ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور متاثرہ افراد کو بروقت انصاف فراہم کریں۔

میٹنگ میں تفتیشی امور پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ڈی پی او جہلم نے ایس ڈی پی اوز کو ہدایت کی کہ وہ تفتیشی عمل کی مؤثر نگرانی کریں اور تفتیش کے معیار کو بہتر بنائیں تاکہ ملزمان کو ٹھوس شواہد کی بنیاد پر قرار واقعی سزا دلوائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ میرٹ پر مبنی تفتیش ہی انصاف کی فراہمی اور عوام کے اعتماد کی بحالی کی ضمانت ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے افسران کو محکمانہ احتساب کے لیے ہر وقت تیار رہنے کی تلقین کرتے ہوئے واضح کیا کہ کرپشن اور شہریوں کے ساتھ بدسلوکی پر زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو انصاف کی فراہمی، مقدمات کی بروقت پیروی، پبلک سروس ڈیلیوری کے اعلیٰ معیار اور قانون کی بلاامتیاز عملداری سے ہی جہلم پولیس ایک مثالی اور بہترین پولیس فورس کہلانے کی مستحق بن سکتی ہے۔

میٹنگ کے اختتام پر ڈی پی او جہلم طارق عزیز سندھو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع جہلم میں امن و امان، عوامی تحفظ اور شفاف پولیسنگ کے لیے تمام افسران اور اہلکار مشترکہ طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے، تاکہ عوام کا پولیس پر اعتماد مزید مضبوط ہو سکے۔

Exit mobile version