جہلم:کپاس، تل اور دھان کی فصلیں بیماریوں کی لپیٹ میں، کسانوں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا

جہلم: ضلع جہلم سمیت پنجاب بھر میں کپاس، تل، دھان اور دیگر اہم فصلوں پر مختلف بیماریوں اور کیڑوں کے حملوں نے کسانوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ کسانوں اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ زرعی شعبہ متعدد مسائل سے دوچار ہے، جبکہ بیماریوں سے متاثرہ فصلوں، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور تحقیقاتی سرگرمیوں میں سست روی کے باعث کاشتکار شدید معاشی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔
کاشتکاروں کے مطابق کبھی "سفید سونا” کہلانے والی کپاس کی کاشت گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو چکی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت رکھنے والی نئی اقسام کی عدم دستیابی، موسمی تبدیلیوں، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور کم منافع کے باعث کاشتکار کپاس کی کاشت سے بددل ہوتے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں آئندہ برس اس کی زیرِ کاشت رقبہ مزید کم ہونے کا خدشہ ہے۔
کسانوں کا کہنا ہے کہ کپاس کے متبادل کے طور پر کاشت کی جانے والی تل کی فصل بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق فصل پر میرڈ بگ (لیس بگ)، پھلی اور کیپسول کی سنڈی سمیت دیگر بیماریوں کے حملوں نے پیداوار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کیڑے پودوں کے نرم حصوں سے رس چوس کر انہیں کمزور کر دیتے ہیں، جبکہ بعض بیماریوں کے باعث پھول پتوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور پھلیاں و بیج بننے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔
اسی طرح دھان کی فصل پر بھی گزشتہ دو ہفتوں کے دوران تنے کی سنڈی کے حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے کئی علاقوں میں فصل متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ دیگر فصلیں بھی مختلف بیماریوں اور موسمی اثرات کی وجہ سے مطلوبہ پیداوار نہیں دے رہیں۔
متاثرہ کسانوں اور سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وزیر زراعت پنجاب اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ زرعی تحقیق کو فعال بنایا جائے، بیماریوں کے خلاف مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے، کسانوں کو بروقت تکنیکی رہنمائی اور معیاری زرعی ادویات فراہم کی جائیں، جبکہ محکمہ زراعت کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ضروری انتظامی اقدامات بھی کیے جائیں۔
دوسری جانب ترجمان محکمہ زراعت کا کہنا ہے کہ سیکرٹری زراعت پنجاب کی توجہ کپاس کی بحالی اور زرعی شعبے کی بہتری پر مرکوز ہے۔ ترجمان کے مطابق فیلڈ اسٹاف کو کسانوں کے درمیان رہ کر رہنمائی فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، جبکہ دھان میں تنے کی سنڈی کے تدارک کے لیے محکمہ زراعت کی جانب سے باقاعدہ ایڈوائزری بھی جاری کر دی گئی ہے تاکہ کاشتکار بروقت حفاظتی اقدامات کر سکیں۔



