جہلم سمیت پنجاب بھر میں زمینوں کی خرید و فروخت اور اراضی ریکارڈ کے لیے متعارف کرایا جانے والا گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ مختلف مشکلات اور شکایات کے باعث چھ ماہ کے لیے معطل کردیا گیا ہے۔
پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی وزیر مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے گرین سرٹیفکیٹ کے حوالے سے سامنے آنے والے مسائل کا اعتراف کرتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ اس نظام کو چھ ماہ کے لیے معطل کیا گیا ہے۔
گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کا نظام پنجاب میں روایتی فرد کے متبادل کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا۔ بورڈ آف ریونیو پنجاب کے فیصلے کے مطابق یکم جولائی 2026ء سے جہلم، ساہیوال، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین، چکوال، لودھراں سمیت پنجاب کے بیشتر اضلاع میں اراضی کے لین دین کے لیے روایتی فرد کا اجرا روک کر گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ اور پراپرٹی رپورٹ کو قابلِ قبول دستاویزات قرار دیا گیا تھا۔
نئے نظام کا بنیادی مقصد اراضی ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنانا، جائیداد کی ملکیت اور قبضے کی تصدیق کو محفوظ بنانا، جعلی فرد اور ریکارڈ میں ردوبدل کے ذریعے ہونے والے فراڈ کی روک تھام اور زمینوں کی خرید و فروخت میں شفافیت پیدا کرنا تھا۔
تاہم نظام کے عملی نفاذ کے بعد مختلف علاقوں میں اراضی ریکارڈ، ملکیت، مشترکہ جائیدادوں، پرانے اور نامکمل کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ سمیت متعدد مسائل سامنے آنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن اراکین نے بھی گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے نظام پر سوالات اٹھاتے ہوئے اراضی ریکارڈ اور زمینوں کے لین دین میں مشکلات کی نشاندہی کی۔ رانا آفتاب احمد نے زمینوں کے معاملات میں ریکارڈ کے حصول کے دوران درپیش مسائل کی نشاندہی کی، جبکہ راجہ شوکت بھٹی نے بعض اراضی ریکارڈ میں ایک ہی زمین پر متعدد افراد کے نام درج ہونے جیسے مسائل کی جانب توجہ دلائی۔
اجلاس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اگر گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کو چھ ماہ کے لیے معطل کیا گیا ہے تو اس کے لیے قانونی طریقہ کار اور اختیار کیا ہے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے بھی معاملے پر وضاحت طلب کی۔ اجلاس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ بعض علاقوں کا پرانا لینڈ ریکارڈ تاحال مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ نہیں ہوسکا۔
معطلی کے بعد شہریوں کے لیے کیا طریقہ کار ہوگا؟
گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کی چھ ماہ کے لیے معطلی کے بعد جائیداد مالکان، خریداروں اور پراپرٹی ڈیلرز میں یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ زمینوں کی خرید و فروخت، انتقال اور دیگر معاملات کے لیے اب کون سی دستاویز قابلِ قبول ہوگی۔
دستیاب معلومات میں گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کی معطلی کا اعلان تو موجود ہے، تاہم متبادل طریقہ کار، فرد کے دوبارہ اجرا یا عبوری نظام سے متعلق مکمل تفصیلی نوٹیفکیشن تاحال سامنے نہیں آیا۔
اس صورتحال میں شہریوں، پراپرٹی ڈیلرز اور زمینوں کے خریداروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ کسی بھی جائیداد کی خرید و فروخت سے قبل متعلقہ لینڈ ریکارڈ سنٹر، تحصیل ریونیو دفتر یا متعلقہ حکام سے موجودہ قانونی طریقہ کار کی تصدیق ضرور کریں تاکہ مستقبل میں کسی قانونی یا مالی پیچیدگی سے بچا جاسکے۔
دوسری جانب گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے نظام کی چھ ماہ کی معطلی کو حکومت کے لیے ایک اہم موقع بھی قرار دیا جا رہا ہے کہ نئے ڈیجیٹل نظام میں موجود خامیوں، نامکمل ریکارڈ اور زمینی حقائق سے متعلق شکایات کا تفصیلی جائزہ لے کر ضروری اصلاحات کی جائیں، تاکہ مستقبل میں ایسا نظام وضع کیا جاسکے جو شہریوں کو سہولت اور شفافیت فراہم کرنے کے ساتھ جائیداد کے حقوق کا مؤثر تحفظ بھی یقینی بنائے۔
