جہلم میں جی ٹی روڈ پر دریائے جہلم کا پل خستہ حالی کا شکار، بڑا حادثہ رونما ہونے کا خدشہ

جہلم: دریائے جہلم پر واقع راولپنڈی سے لاہور جانے والا جی ٹی روڈ پل خستہ حالی کا شکار ہے، جس کی بوسیدہ حالت کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ پل پر بننے والے گڑھے اور دراڑیں نہ صرف روزمرہ سفر کرنے والوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں بلکہ پل کی موجودہ صورتحال ایک بڑے خطرے کی علامت بنتی جا رہی ہے۔

جہلم کے شہریوں نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پل جی ٹی روڈ کے مسافروں کے لیے اہم اور محفوظ ذریعہ تھا، لیکن اس کی موجودہ حالت حکومتی نااہلی اور این ایچ اے کی غفلت کا واضح ثبوت ہے۔ پل پر حفاظتی دیواریں بھی تعمیر نہیں کی گئیں، جس سے پیدل چلنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جی ٹی روڈ سے گزرنے والے مسافروں کا کہنا ہے کہ پل کی مخدوش حالت کے باوجود این ایچ اے حکام نے اس کی مرمت کے لیے کوئی سنجیدہ اقدامات یا منصوبہ بندی نہیں کی۔

مسافروں نے کہا کہ منتخب نمائندے انتخابات سے قبل وعدے کرتے ہیں، لیکن ان وعدوں کو پورا کرنے کے بجائے دیگر منصوبوں کو ترجیح دی جاتی ہے، جس سے عوام میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔

جہلم اور سرائے عالمگیر کے مکینوں نے وزیراعظم پاکستان، چیئرمین این ایچ اے، ممبر قومی اسمبلی راجہ بلال اظہر کیانی اور اسٹیشن کمانڈر سے مطالبہ کیا ہے کہ جی ٹی روڈ پر دریائے جہلم پل کی فوری مرمت کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

عوام نے اپیل کی ہے کہ حفاظتی دیواروں کی تعمیر، گڑھوں کی بھرائی اور پل کی مجموعی حالت کو بہتر بنایا جائے تاکہ کسی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے اور مسافروں کی زندگیوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ حکام پل کی خستہ حالی پر فوری توجہ دیں گے اور عوام کو درپیش مسائل کا فوری حل نکالیں گے تاکہ یہ اہم شاہراہ محفوظ اور قابل استعمال بن سکے۔

↑
Exit mobile version