جہلم شہر کے مصروف ترین علاقوں میں شمار ہونے والا لالہ زار کالونی لاری اڈے سے ملحقہ ریلوے پھاٹک شہریوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ روزانہ کے اوقات میں یہاں طویل دورانیے تک ٹریفک جام رہنا معمول بن گیا ہے، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
موٹر سائیکلوں، چنگ چی رکشوں، کاروں، مزدا ٹرکوں اور دیگر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ جانے کے باعث نہ صرف گاڑیاں پھنس جاتی ہیں بلکہ پیدل گزرنے والے شہریوں اور لاری اڈے تک جانے والے مسافروں کے لیے راستہ لینا بھی محال ہو جاتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ریلوے ٹریک پر پل کی تعمیر ناگزیر ہو چکی ہے تاکہ روزمرہ کی اس اذیت سے نجات مل سکے۔
علاقہ مکینوں نے بتایا کہ 2002 میں جنرل بس اسٹینڈ ریلوے پھاٹک کے قریب تعمیر کیا گیا تھا، اُس وقت آبادی اور ٹریفک کا دباؤ نہ ہونے کے برابر تھا۔ تاہم اب شہر کی آبادی اور گاڑیوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث ریلوے پھاٹک پر صورتحال دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے۔
شہریوں نے متعدد بار متعلقہ حکام کی توجہ اس مسئلے کی جانب مبذول کروائی مگر اب تک کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ عوامی مطالبہ ہے کہ حکام فوری طور پر ریلوے پھاٹک پر بالائی پل (اوور ہیڈ برج) تعمیر کرنے کے احکامات جاری کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ ریلوے پھاٹک کو آٹو میٹک نظام کے تحت کشادہ اور یکطرفہ بنایا جائے تاکہ ٹریفک کے بہاؤ میں بہتری لائی جا سکے اور شہریوں کی مشکلات کم ہوں۔
