محکمہ صحت جہلم کی چشم پوشی، ضلع بھر میں اتائیوں کا راج، ناقص علاج سے کئی قیمتی جانیں ضائع

جہلم: محکمہ صحت کی مبینہ غفلت اور چشم پوشی کے باعث ضلع جہلم میں اتائیوں نے بڑے پیمانے پر نام نہاد کلینک قائم کر رکھے ہیں، جہاں جراثیم زدہ آلات سے سرعام آپریشن کیے جا رہے ہیں۔ ان غیر معیاری طریقۂ علاج کے باعث متعدد مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سینکڑوں افراد مختلف مہلک امراض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان کلینکس میں سٹرائیڈز اور دیگر خطرناک ادویات کا بے دریغ استعمال معمول بن چکا ہے، جس سے مریضوں کو ہیپاٹائٹس، شوگر، امراض قلب، جگر اور معدے کی بیماریاں لاحق ہو رہی ہیں۔ ان اتائی ڈاکٹروں کے پاس نہ تو کوئی مستند ڈگری ہے اور نہ ہی جدید طبی سہولیات، لیکن اس کے باوجود وہ انسانی جانوں سے کھلواڑ کرتے ہوئے بے خوف کام کر رہے ہیں۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ڈی ایچ او) کی جانب سے کیے جانے والے وزٹس صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ اعلیٰ حکام کو "سب اچھا ہے” کی جھوٹی رپورٹس دی جا رہی ہیں جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس انتہائی تشویشناک ہیں۔

شہریوں نے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن سے فوری نوٹس لینے اور ضلع بھر میں اتائی ڈاکٹروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عوامی مطالبہ ہے کہ جعلی اور غیر تربیت یافتہ افراد کے کلینکس کو فی الفور بند کیا جائے اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button