جہلم میں پولیس کے جگہ جگہ ناکے شہریوں کیلئے عذاب، تاجروں کے کاروبار بھی بری طرح متاثر

7

جہلم شہر اور ضلع بھر میں پولیس کی جانب سے ہیلمٹ، ڈرائیونگ لائسنس، کالے شیشے اور ایل ای ڈی لائٹس کے غیر نمونہ نمبر پلیٹس کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں اور ناکہ بندی جاری ہے، جس سے شہری شدید اذیت اور تاجروں کے کاروبار متاثر ہو رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق جہلم شہر کے داخلی اور خارجی راستوں اور مختلف چوک چوراہوں میں ناکے لگائے گئے ہیں، جس کے باعث شہری طویل وقت تک قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہیں۔ خاص طور پر بیمار، بچے اور خواتین بھی کئی دیر تک لائن میں کھڑے رہنے کی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جس سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں دو ہزار روپے کا موٹر سائیکل چالان ادا کرنا غریب اور متوسط طبقے کے لیے انتہائی مشکل ہو گیا ہے، جبکہ مارکیٹ میں ہیلمٹ کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے، جس سے شہریوں کے لیے چالان کی ادائیگی کے ساتھ ہی ہیلمٹ خریدنا بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

تاجروں نے کہا کہ ناکوں کی وجہ سے اندرون شہر تاجروں کو دکانوں کے کرایے اور کاروباری مسائل میں مشکلات کا سامنا ہے، جس سے معاشی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

شہریوں اور تاجروں نے کہا کہ حکومت اور پولیس کا مقصد عوام کی حفاظت اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے، لیکن موجودہ ناکہ بندی کے طریقہ کار سے عوام کی روزمرہ زندگی اور تاجروں کے کاروبار بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، اس لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم طارق عزیز سندھو سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ شہر کے چوک چوراہوں میں لگے ناکوں کو ختم کیا جائے تاکہ شہریوں اور تاجروں کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکے اور کاروباری سرگرمیوں کو معمول کے مطابق جاری رکھا جا سکے۔

Exit mobile version