پٹرول ریلیف سکیم کا مقصد متاثرہ طبقات کو براہِ راست ریلیف دینا ہے، بلال اظہر کیانی

وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ حکومت نے مشکل معاشی حالات، محدود وسائل اور آئی ایم ایف پروگرام کی پابندیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پٹرول ریلیف سکیم کے ذریعے ان طبقات کو براہِ راست ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی ہے جو پٹرول کی قیمتوں سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ موٹر سائیکل، رکشہ، چنگچی اور لوڈر استعمال کرنے والوں کو ہر ہفتے 500 روپے جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے ہر 10 دن بعد 1000 روپے تک کی رعایت فراہم کی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ وزیراعظم فیول ریلیف سکیم پر کامیابی سے عملدرآمد جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو روز کے دوران انہوں نے اپنے حلقے کی تینوں تحصیلوں میں تقریباً 40 پٹرول پمپس کا دورہ کیا اور شہریوں، بالخصوص موٹر سائیکل سواروں سے براہِ راست بات چیت کی۔

انہوں نے بتایا کہ بزرگ شہریوں اور طلبہ سمیت متعدد افراد کی رجسٹریشن انہوں نے خود کرائی اور انہیں موقع پر ہی ریلیف حاصل کرتے دیکھا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ سکیم کا مقصد ان شہریوں کو براہِ راست سہولت فراہم کرنا ہے جو روزمرہ آمدورفت کے لیے موٹر سائیکل، رکشہ، چنگچی، لوڈر یا چھوٹی گاڑی استعمال کرتے ہیں۔

بلال اظہر کیانی نے کہا کہ موٹر سائیکل، رکشہ، چنگچی اور لوڈر استعمال کرنے والوں کے لیے سکیم کے تحت ہر ہفتے 500 روپے کا مفت پٹرول فراہم کیا جا رہا ہے جو ماہانہ تقریباً 2000 روپے بنتا ہے، جبکہ 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے لیے ہر 10 دن میں 1000 روپے تک کی رعایت دی جا رہی ہے جو ماہانہ تقریباً 3000 روپے بنتی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ سرکاری سکیم کے مطابق دو اور تین پہیہ گاڑیوں کے لیے 500 روپے ہفتہ وار ریلیف پانچ لیٹر پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے ہے، جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے ہر 10 دن میں 1000 روپے کی رعایت مقرر کی گئی ہے۔ تاہم 25 ستمبر کی مشترکہ پریس کانفرنس کے حوالے سے جاری سرکاری معلومات کے مطابق موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگچی کے لیے پانچ لیٹر کی حد عوامی رائے کے بعد ختم کیے جانے اور کرائے کی گاڑی استعمال کرنے والے موٹر سائیکل و رکشہ صارفین کے لیے ملکیت کی شرط ختم کیے جانے کا بھی اعلان کیا گیا۔

وزیر مملکت نے بتایا کہ موٹر سائیکل، رکشہ، چنگچی اور لوڈر کے لیے بنیادی طور پر شناختی کارڈ اور متعلقہ گاڑی کا ایکسائز رجسٹریشن کارڈ درکار ہے۔ گاڑی کا رجسٹرڈ ہونا ضروری ہے، تاہم اس کا صارف کے اپنے نام پر رجسٹرڈ ہونا لازمی نہیں، جبکہ رجسٹریشن کے لیے استعمال ہونے والی موبائل سم شناختی کارڈ سے منسلک ہونی چاہیے۔ دوسری جانب 800 سی سی تک کی گاڑی کے معاملے میں گاڑی کا صارف کے اپنے نام پر رجسٹرڈ ہونا ضروری ہے۔

انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنے شناختی کارڈ اور گاڑی کے متعلقہ رجسٹریشن کاغذات کے ساتھ قریبی پٹرول پمپ پر جائیں، جہاں عملہ اور متعلقہ رضاکار رجسٹریشن میں معاونت کریں گے۔ ان کے مطابق بعض معاملات میں رجسٹریشن، ٹوکن کے اجرا اور پٹرول کے حصول کا عمل چند منٹ میں مکمل ہو رہا ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق سکیم ملک بھر میں فعال ہے اور رجسٹریشن کے لیے شناختی کارڈ اور گاڑی کا رجسٹریشن کارڈ درکار ہے۔

بلال اظہر کیانی نے کہا کہ یہ محض کاغذی سکیم نہیں بلکہ عملی طور پر پٹرول پمپس پر فعال ہے اور حکومت کی خواہش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق شہری اس سے فائدہ اٹھائیں۔

انہوں نے سیاسی کارکنوں، متعلقہ اداروں اور میڈیا سے اپیل کی کہ سکیم کے بارے میں معلومات گاؤں، گلی اور محلے کی سطح تک پہنچائی جائیں تاکہ صرف معلومات کی کمی کی وجہ سے کوئی مستحق شہری اس سہولت سے محروم نہ رہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر عمومی طور پر پٹرولیم لیوی میں چند روپے کی کمی کی جاتی تو اس کا فائدہ بڑی اور چھوٹی ہر قسم کی گاڑی استعمال کرنے والوں کو ہوتا، تاہم موجودہ طریقہ کار میں دستیاب وسائل کو زیادہ متاثرہ طبقات تک براہِ راست پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کے مطابق موٹر سائیکل سوار کے لیے ہفتہ وار 500 روپے کا ریلیف، پانچ لیٹر کے استعمال کو بنیاد بنایا جائے تو تقریباً 100 روپے فی لیٹر رعایت کے برابر بنتا ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ مشکل معاشی حالات میں حکومت کی کوشش ہے کہ دستیاب وسائل کو ایسے انداز میں استعمال کیا جائے جس سے عوام کے ماہانہ اخراجات کا بوجھ کم ہو۔

انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ جن پٹرول پمپس پر روزانہ چند سو ٹوکن استعمال ہو رہے ہیں وہاں یہ تعداد ہزاروں تک پہنچے اور زیادہ سے زیادہ شہری سکیم سے مستفید ہوں۔

پٹرول پمپس کو ادائیگیوں کا سائیکل تقریباً 24 گھنٹے میں مکمل کرنے کی کوشش

بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ ادائیگیوں کے حوالے سے اس وقت ان کے پاس حتمی مجموعی اعداد و شمار موجود نہیں، تاہم متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ موجود ہے۔ پٹرول پمپس کو ادائیگیوں کا سائیکل تقریباً 24 گھنٹے میں مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ کسی مخصوص ادائیگی کے مسئلے کی صورت میں اسٹیٹ بینک، اوگرا اور وزارتِ پٹرولیم باہمی رابطے سے اسے حل کرتے ہیں۔

وزارتِ پٹرولیم کے مطابق 24 ستمبر تک ملک کے 10 ہزار سے زائد پٹرول پمپس میں سے 8500 سے زیادہ کو ادائیگیاں کی جا چکی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ سکیم کا مقصد بالخصوص طلبہ، مزدوروں، نوکری پیشہ افراد اور روزمرہ آمدورفت کے لیے موٹر سائیکل یا چھوٹی گاڑی استعمال کرنے والے شہریوں کو براہِ راست سہولت فراہم کرنا ہے۔ ماہانہ دو سے تین ہزار روپے تک کا ریلیف موجودہ حالات میں گھریلو بجٹ کے لیے بامعنی سہولت ثابت ہو سکتا ہے۔

احتجاج اور سکیورٹی انتظامات

وزیر مملکت نے احتجاجی سیاست کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ ایک طرف وفاقی حکومت شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے دن رات کام کر رہی ہے تو دوسری جانب خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف پولیس اہلکار اور سکیورٹی فورسز کے جوان اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں سیاسی و انتظامی توانائی کا بڑا حصہ پولیس کو وسائل اور تحفظ فراہم کرنے، فرانزک سہولیات بہتر بنانے اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا مورال بلند کرنے پر صرف ہونا چاہیے۔

اسلام آباد میں احتجاج اور سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کسی بھی حکومت کی خواہش نہیں ہوتی کہ شہر میں کنٹینرز رکھے جائیں، راستے بند ہوں یا شہریوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہو، تاہم ماضی کے واقعات اور امن و امان کے خدشات کے پیش نظر ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عوام، سرکاری و نجی املاک اور اہم تنصیبات کا تحفظ یقینی بنائے۔

انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے، تاہم تشدد، توڑ پھوڑ، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے یا قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ حکومت عوام کے تحفظ اور امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے ضرورت کے مطابق حفاظتی اقدامات کرے گی۔

بلال اظہر کیانی نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ اسلام آباد مکمل طور پر بند ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ چند روز کے دوران سیالکوٹ، گجرات، جہلم، دینہ اور سوہاوہ سے ہوتے ہوئے اسلام آباد پہنچے ہیں اور انہوں نے آمدورفت جاری دیکھی، تاہم جہاں ممکنہ تشدد سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے احتیاطی اقدامات ضروری ہوں گے وہاں حکومت اقدامات کرے گی۔

معاشی استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام

وزیر مملکت نے کہا کہ ماضی میں بھی پاکستان آئی ایم ایف پروگرام یا مذاکرات کے مرحلے میں رہا ہے اور سیاسی و انتظامی چیلنجز کے باوجود معاشی پروگرام پر کام جاری رکھا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ پروگرام کے حوالے سے آئی ایم ایف نے مئی 2026ء میں پاکستان کے تیسرے جائزے کی تکمیل کی تھی اور تقریباً 1.1 ارب ڈالر کی فوری ادائیگی کی منظوری دی تھی۔ آئی ایم ایف کے مطابق 8 مئی 2026ء کو تیسرے جائزے کی تکمیل کے بعد تقریباً 1.1 ارب ڈالر کی رقم جاری کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے مطابق دسمبر 2025ء کے اختتام پر پاکستان کے مجموعی سرکاری زرمبادلہ ذخائر 16 ارب ڈالر تک پہنچ گئے تھے۔ آئی ایم ایف نے بھی دسمبر 2025ء کے اختتام پر مجموعی ذخائر 16 ارب ڈالر بتائے ہیں۔

بلال اظہر کیانی نے کہا کہ پاکستان کی خودمختار ریٹنگ میں بھی بہتری آئی ہے۔ جولائی 2026ء میں ایس اینڈ پی گلوبل نے پاکستان کی طویل مدتی ریٹنگ میں بہتری کرتے ہوئے اسے B- سے B کیا جبکہ آؤٹ لک مستحکم رکھا۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی اور بیرونی مشکلات کے باوجود حکومت کی توجہ معاشی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط اور بیرونی شعبے کو مضبوط بنانے پر رہی ہے اور اب اگلا ہدف حاصل شدہ استحکام کو پائیدار اقتصادی نمو میں تبدیل کرنا ہے تاکہ روزگار، برآمدات، سرمایہ کاری اور زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید اضافہ ہو۔

وزیر مملکت نے کہا کہ معاشی استحکام کا سفر ابھی مکمل نہیں ہوا، اس لیے اسی تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے ایسے پائیدار اقتصادی ماحول کی تشکیل ضروری ہے جو عام آدمی کے لیے روزگار، کاروبار اور آمدنی کے بہتر مواقع پیدا کرے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ایک طرف مشکل معاشی حالات میں مستحق شہریوں کو براہِ راست پٹرول ریلیف فراہم کر رہی ہے اور دوسری طرف دہشت گردی اور امن و امان کے چیلنجز سے بھی نمٹ رہی ہے، اس لیے دستیاب سیاسی اور انتظامی توانائی عوام کو ریلیف دینے، معیشت مضبوط بنانے اور ریاستی اداروں کی استعداد بڑھانے پر صرف ہونی چاہیے۔

↑
Exit mobile version