پاکستان میں نئے صوبے اور انتظامی یونٹس وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں، مرکزی علماء کونسل جہلم

جہلم: مرکزی علماء کونسل جہلم کے علماء کرام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، کیونکہ آبادی میں مسلسل اضافے اور بڑے صوبوں کے وسیع انتظامی حجم کے باعث عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور انتظامی امور میں مشکلات کا سامنا ہے۔

مرکزی علماء کونسل جہلم کے علماء کرام نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پنجاب جیسے بڑے صوبے کی آبادی 2023ء کی مردم شماری کے مطابق تقریباً 12 کروڑ 80 لاکھ ہے، جس کے باعث اتنی بڑی آبادی والے صوبے کے انتظامی امور کو ایک ہی مرکز لاہور سے مؤثر انداز میں چلانا ایک بڑا انتظامی چیلنج بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، ترقیاتی فنڈز اور عوام کے لیے بنیادی سہولیات تمام علاقوں میں نچلی سطح تک یکساں طور پر نہیں پہنچ پا رہیں، جبکہ پسماندہ علاقوں میں امن و امان، تعلیم اور صحت جیسے مسائل پر بھی بروقت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

علماء کرام نے کہا کہ جنوبی پنجاب، سرائیکی بیلٹ، ہزارہ ڈویژن اور کراچی جیسے علاقوں کے عوام کی جانب سے اکثر یہ شکایات سامنے آتی ہیں کہ ان کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والے وسائل کا بڑا حصہ بڑے شہروں پر خرچ ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق نئے صوبوں کے قیام سے مقامی قیادت کو ابھرنے کا موقع ملے گا جبکہ تعلیم، صحت اور معاشی ترقی کے شعبوں میں بھی بہتری لانے کے امکانات پیدا ہوں گے اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام مؤثر نہ ہونے کی وجہ سے نچلی سطح پر عوام کو بے حد مشکلات درپیش ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس قائم کرکے سرکاری اداروں کو عوام کے قریب لایا جائے تاکہ مقامی مسائل، صحت، تعلیم، روزگار، امن و امان اور انصاف کی فراہمی سے متعلق معاملات بروقت انداز میں حل کیے جا سکیں۔

مرکزی علماء کونسل جہلم کے علماء کرام کے مطابق نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے ترقیاتی منصوبہ بندی کو مقامی ضروریات کے مطابق بہتر انداز میں ترتیب دینے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بہتر سیاسی نمائندگی، مختلف علاقوں کے مسائل پر زیادہ توجہ، وسائل کی بہتر تقسیم اور مقامی آبادی و ضروریات کے مطابق بجٹ اور وسائل مختص کرنے کی گنجائش بھی بڑھ سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انتظامی اختیارات عوام کے قریب ہونے سے عوامی شکایات کے فوری ازالے اور مقامی سطح پر فیصلوں میں آسانی پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں شہریوں کے مسائل نسبتاً تیزی سے حل کیے جا سکیں گے۔

علماء کرام نے مطالبہ کیا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے ذریعے عوام کو سرکاری دفاتر، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر بنیادی سہولیات تک آسان رسائی فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔

↑
Exit mobile version