جہلم: ضلع جہلم کے شہریوں نے پیرا فورس سے جو توقعات وابستہ کر رکھی تھیں، وہ تاحال پوری ہوتی دکھائی نہیں دے رہیں۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ آنے والا رمضان المبارک پیرا فورس کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہوگا کہ وہ گراں فروشوں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کس حد تک مؤثر کارروائی کرتی ہے۔
شہریوں کے مطابق اب تک پیرا فورس کی سرگرمیاں زیادہ تر چھوٹے دکانداروں اور ریڑھی بانوں تک محدود نظر آتی ہیں، جبکہ شہر اور ضلع بھر میں ایک بھی بڑے ذخیرہ اندوز کے خلاف کارروائی سامنے نہیں آئی۔ صورتحال یہ ہے کہ متعدد تاجروں نے آنے والے رمضان المبارک کے پیش نظر اپنے گودام اشیائے ضروریہ سے بھر رکھے ہیں، مگر ان کے خلاف کوئی مؤثر ایکشن نہیں لیا جا رہا۔
اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے شہریوں نے مزید انکشاف کیا کہ مارکیٹ کمیٹی کا ٹھیکیدار اپنے ٹھیکے کی رقم پوری کرنے کے لیے سرکاری نرخنامے کی فوٹو اسٹیٹ کاپی 20 روپے میں دکانداروں کو تھما کر آگے بڑھ جاتا ہے جبکہ دکاندار ان نرخناموں پر عمل درآمد کرنے کے بجائے من مانے ریٹس پر اشیائے ضروریہ فروخت کر کے بھاری منافع کما رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر رمضان المبارک سے قبل بڑے ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی نہ کی گئی تو مہنگائی کا بوجھ براہِ راست عام آدمی پر پڑے گا۔
عوامی اور سماجی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پیرا فورس کی کارکردگی کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے اور رمضان سے قبل ذخیرہ اندوزوں اور گراں فروشوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔
