ٹی ایچ کیو ہسپتال پنڈدادنخان کا آن لائن ٹوکن سسٹم سہولت کے بجائے مریضوں کے لیے نیا بحران بن گیا

پنڈدادنخان: تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال پنڈدادنخان میں آن لائن ٹوکن سسٹم مریضوں اور ان کے لواحقین کے لیے مبینہ طور پر سہولت کے بجائے مشکلات کا باعث بن گیا ہے۔

شہریوں کے مطابق ٹوکن کے حصول کے لیے بعض اوقات 2 سے 4 گھنٹے تک انتظار کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث مریضوں کو طویل انتظار اور اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ صورتحال اس وقت مزید تشویشناک ہو جاتی ہے جب کوئی مریض انتہائی خراب حالت میں ہسپتال پہنچتا ہے۔ مبینہ طور پر ایمرجنسی میں بھی پہلے ٹوکن حاصل کرنے، اس کے بعد ڈاکٹر کی جانب سے ٹیب یا ایپ میں مریض کا اندراج اور پھر میڈیسن کاؤنٹر سمیت مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ شہری سوال اٹھاتے ہیں کہ جو مریض پہلے ہی انتہائی تشویشناک حالت میں ہو، کیا وہ ان تمام مراحل سے باآسانی گزر سکتا ہے؟

عوامی حلقوں کے مطابق مسئلہ صرف آن لائن ٹوکن سسٹم تک محدود نہیں بلکہ ہسپتال میں ڈاکٹرز، گائنی، اینستھیزیا، ای این ٹی، لیبارٹری اور دیگر طبی عملے کی کمی بھی مریضوں کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔ شہریوں کے مطابق ڈلیوری آپریشنز اور مختلف تشخیصی ٹیسٹوں کی سہولیات بھی ضرورت کے مطابق دستیاب نہیں ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے ٹی ایچ کیو ہسپتال پنڈدادنخان علاقے کا واحد بڑا سرکاری طبی سہارا ہے، اس لیے یہاں بنیادی طبی سہولیات کی دستیابی اور بروقت علاج انتہائی ضروری ہے۔

عوامی حلقوں نے مشیر صحت پنجاب ڈاکٹر اظہر محمود کیانی، محکمہ صحت پنجاب اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹی ایچ کیو ہسپتال پنڈدادنخان کا فوری معائنہ کر کے عملے کی کمی، آن لائن ٹوکن سسٹم اور دیگر بنیادی مسائل کا جائزہ لیا جائے اور ضروری اصلاحات کی جائیں، تاکہ مریضوں کو بلاوجہ انتظار کے بجائے بروقت اور معیاری علاج کی سہولت میسر آ سکے۔

Exit mobile version