جہلم: گزشتہ چند روز سے جہلم اور ملحقہ علاقوں میں واٹس ایپ ہیکنگ کے منظم گروہوں کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں، جنہوں نے صحافیوں سمیت متعدد شخصیات کے موبائل نمبرز ہیک کر کے تاوان (رقوم) مانگنے شروع کر دی ہیں۔ متاثرہ افراد اور سوشل میڈیا صارفین میں تشویش پائی جاتی ہے جب کہ ماہرین اور حکام نے محتاط رہنے کی سخت ہدایت کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ہیکرز مختلف طریقے استعمال کر رہے ہیں جن میں عام طور پر درج ذیل طریقہ کار سامنے آیا ہے:
- گروپ چیٹس میں شامل صارفین کو واٹس ایپ کے ذریعے ایزی پیسہ یا دیگر ذرائع سے بڑی رقوم (مثلاً 50 ہزار روپے) کروانے کی فریب آور درخواستیں بھیجی جاتی ہیں۔
- ہیکرز بعض اوقات فون کر کے جھوٹی اطلاعات دیتے ہیں — مثلاً کسی نجی کورئیر کمپنی کی طرف سے پارسل دینے کا بہانہ — اور متاثرہ شخص سے 6 ہندسوں والا کوڈ طلب کیا جاتا ہے۔ صارف جب یہ کوڈ فراہم کر دیتا ہے تو ہیکرز اس کوڈ سے واٹس ایپ اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔
- ہیک ہونے کے بعد متاثرہ نمبرز سے واٹس ایپ پر مزید دھمکی آمیز یا پیسے مانگنے والے پیغامات بھیج کر دیگر لوگوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ماہرین سائبَر سیکیورٹی کا مشورہ ہے کہ صارفین کبھی بھی کسی کو اپنا 6 ہندسوں والا ویری فیکیشن کوڈ یا بینک/کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات نہ دیں۔ یہ کوڈ صرف اسی ڈیوائس میں داخل کیا جانا چاہیے جہاں آپ نے واٹس ایپ رجسٹر کیا ہے۔ ماہرین نے کہا:
"اگر کوڈ کسی نے مانگا تو سمجھ لیں کہ آپ کو ہیک کیا جا رہا ہے — کسی صورت کوڈ نہ بتائیں اور فوراً سیکیورٹی اقدامات اٹھائیں۔”
شہریوں اور متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ اکثر لوگ کورئیر یا سروسز کی جھوٹی کالز میں بہک جاتے ہیں اور اپنا کوڈ دے دیتے ہیں، جس کے بعد ان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس سے پیغامات بھیج کر ان کے روابط کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایک متاثر شہری نے کہا کہ "میرا نمبر ہیک ہوا اور میرے رابطوں کو جعلی پیغامات سے ہراساں کیا گیا — اس سے نہ صرف مالی نقصان بلکہ ذاتی شہرت کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا۔”
ماہرین اور متعلقہ حکام نے درج ذیل احتیاطی تجاویز جاری کی ہیں:
- کسی بھی غیر متوقع کال یا پیغام میں آنے والا 6 ہندسوں والا واٹس ایپ OTP/ورِی فیکیشن کوڈ ہرگز کسی سے شیئر نہ کریں۔
- واٹس ایپ پر موجود پرائیویسی سیٹنگز میں Two-step verification فعال کریں تاکہ اضافی سیکورٹی رہے۔
- غیر معروف لنکس یا ایس ایم ایس میں موجود لنکس پر کلک نہ کریں — خاص طور پر وہ لنکس جو آپ سے ذاتی معلومات مانگیں۔
- اپنے فون اور واٹس ایپ ایپ کو ہمیشہ تازہ ترین (Latest) ورژن پر رکھیں۔
- اگر آپ کا اکاؤنٹ ہیک ہونے کا شک ہو تو فوراً اپنے قریبی سروس پروائیڈر اور سائیبر کرائم پولیس سے رابطہ کریں اور متعلقہ فورمز پر رپورٹ درج کرائیں۔
- نیٹ بینکنگ، کریڈٹ کارڈ اور موبائل والیٹ کی حفاظتی معلومات کسی سے شیئر نہ کریں۔
حکام کا مؤقف:
ذرائع کے مطابق انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کو بھی اس صورتحال سے آگاہ کیا جا رہا ہے تاکہ منظم گروہوں کی نشاندہی اور گرفتاری کے اقدامات کیے جا سکیں۔ شہریوں نے تجویز دی ہے کہ مقامی پولیس اور سائبر کرائم ونگ مل کر فوری تحقیق کریں اور متاثرین کے لیے رہنمائی فراہم کریں۔
شہری حلقوں اور میڈیا نمائندوں نے اپیل کی ہے کہ لوگ محتاط رہیں، اپنے ڈیوائس و اکاؤنٹس کی سیکیورٹی کو ترجیح دیں اور ایسے کسی بھی واقعے کی صورت میں بروقت رپورٹ درج کروائیں تاکہ بڑھتے ہوئے سائبر جرائم کا سدِباب ممکن بنایا جا سکے۔
