ضلع جہلم میں اسلامی تحریکوں کا فعال مرکز جامع مسجد گنبد والی

حالیہ دنوں میں ایک طرف وطنِ عزیز پاکستان کے غیور عوام پورے ملک میں بلا تفریق مذہب و مسلک فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں اور صیہونی مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں تو دوسری طرف مینڈک نما کچھ دین بیزار لوگ ٹیں ٹیں کرتے بھی سنائی دے رہے ہیں۔
کہیں فلسطینیوں کو وہاں سے نکال کر دوسرے اسلامی ممالک میں بسانے کی باتیں ہو رہی ہیں، کہیں مفتیان کرام کے فتوی "جہاد” کے ساتھ مسخرے پن جیسا سلوک کیا جارہا ہے اور کہیں فلسطینیوں کے حق میں غیرمعمولی عوامی احتجاجی مظاہرے ہی ہضم نہیں ہو رہے۔
اسی سلسلے کی ایک کڑی مؤرخہ 18 اپریل 2025ء گزشتہ جمعۃالمبارک، بعد نمازِ جمعہ "تحریک خدام اہل سنت والجماعت ضلع جہلم کے زیراہتمام” جہلم کی سرزمین پر اہالیان جہلم کا بھرپور عوامی احتجاجی مظاہرہ بھی تھا جو بلاشبہ ضلع جہلم کا نمائندہ اجتماع تھا۔ ملک و بیرون ملک کے دینی اور عوامی حلقوں میں جہاں اسے خوب پزیرائی ملی اور بروقت آواز بلند کرنے پر قائدین کو مبارکبادیں پیش کی گئیں وہاں جہلم ہی میں بعض دین بیزار نام نہاد مصلحین صیہونی ہمنوائی میں پیش پیش نظر آئے۔
آپ تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی کریں تو معلوم ہوگا کہ ضلع جہلم میں ایک درویش خدا مست، مردِ قلندر حضرت مولانا عبداللطیف جہلمی کے نام سے ہو گزرا ہے، جس کے اخلاص کی روشن شمع نے توحید و سنت کے دیپ جلائے اور جس کی گرجدار للکار نے ہر باطل کے قلعے کو زمین بوس کیا ہے۔ یہی وہ مردِ آہنگ تھا جس کے سر پر خطیبِ جہلم کا خطاب سجتا ہے۔ اور ہمیشہ اسی "خطیبِ جہلم” کی مسجد کا منبر و محراب پورے ضلع میں دینی تحریکوں کا مرکز رہا ہے۔
تحریک آزادی کشمیر ہو یا تحریک آزادی افغانستان، تحریک تحفظِ ختم نبوت ہو یا تحریک نظامِ مصطفے، یورپین ممالک کی طرف سے توہین آمیز خاکوں پر صدائے احتجاج بلند کرنی ہو یا ملعونِ زمانہ سلمان رشدی کی متنازعہ ترین کتاب کا معاملہ ہو، مدارسِ دینیہ کے حقوق اور تحفظ کی بات ہو یا ملک کے امن کو درپیش مسائل پر عوام کو قومی و ملی وحدت کے جھنڈے تلے جمع کرنا ہو۔
صحابہ کرام علیہم الرضوان کی ناموس کا مسئلہ ہو یا یکجہتی کشمیر کے حوالے سے کوئی عوامی کال دینی ہو، اسی طرح حالیہ فلسطین کے قضیہ پر روزِ اول سے اپنے ان مظلوم بھائیوں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی اور صیہونی بربریت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنی ہو۔
المختصر! کسی بھی اہم دینی، ملی اور قومی معاملے میں ضلع جہلم میں جامع مسجد گنبد والی ہی تمام تحریکوں کا مرکز رہی ہے اور آج بھی ضلع جہلم میں دینی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے ایک مؤثر آواز کی علامت بنی ہوئی ہے۔
ایک وقت تھا کہ جب ضلع بھر میں مجاہد ختم نبوت، خطیبِ جہلم، ولی کامل حضرت مولانا عبداللطیف جہلمی رحمہ اللہ کا طوطی بول رہا تھا، ان کی رحلت کے بعد ان کے فرزند و جانشین نہایت زیرک، معاملہ فہم اور مدبر انسان حضرت مولانا قاری خبیب احمد عمر رحمہ اللہ نے دینی و ملی وحدت کے اس جھنڈے کو اٹھایا اور پہلے سے بھی بلند کردیا۔
آج اسی خاندان کی تیسری نسل حضرت مولانا عبداللطیف جہلمی رحمہ اللہ کے باصلاحیت پوتے، اپنے اکابر و اسلاف کی مبارک اور عالی نسبتوں کے امین، بلامبالغہ خداداد اور غیرمعمولی صلاحیتوں کے حامل حضرت مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق حفظہ اللہ اور اُن کے مخلص رفقائے کار اس مشن کو کمال درجہ کی حکمت عملی سے بڑے منظم انداز میں آگے بڑھا رہے ہیں۔
اور اپنے اکابر و اسلاف کی روایات کے تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے یہ عزم کیے ہوئے ہیں کہ ہم اِن شاءاللہ العزیز اس مرکزیت کی شان کو دوبالا ہی رکھیں گے اور اس پرچمِ حق و صداقت کو کبھی سرنگوں نہیں ہونے دیں گے۔
یقیناً ہمیں اپنے ان قائدین کو اس پرامن احتجاجی مظاہرے پر خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے اور اپنے اُن مخلص رفقائے کار کو بھی جو ہمیشہ ہر آواز پر لبیک کہتے ہوئے ان کے شانہ بشانہ صف آراء ہوجاتے ہیں۔
اللہ تعالی ان دینی و ملی جذبوں کو سلامت رکھے اور ہمارے ان قائدین کو جزائے خیر سے نوازے۔ آمین
لکھاری قاری محمد نعمان فاروق جامعہ صدیقیہ قادریہ کے مدیر اور مرکزی جامع مسجد مدنی محلہ شمالی ڈومیلی، ضلع جہلم کے خطیب ہیں.
(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)



