وزیراعلیٰ کے سپیشل اسسٹنٹ کا پنڈدادنخان کا دورہ، مبینہ غفلت پر ایم ایس ٹی ایچ کیو ہسپتال معطل

پنڈدادنخان: وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر سپیشل اسسٹنٹ ٹو چیف منسٹر پنجاب شعیب مرزا نے اپنی ٹیم کے ہمراہ رات گئے تحصیل پنڈدادنخان کا اچانک دورہ کیا، جس کے دوران مختلف سرکاری اداروں کی کارکردگی، عوامی سہولیات اور انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق دورے کے دوران مختلف محکموں کے ذمہ دار افسران کو فوری طور پر طلب کیا گیا جبکہ سی ای او ہیلتھ جہلم کو بھی ہنگامی بنیادوں پر پنڈدادنخان پہنچنے کی ہدایت کی گئی تاکہ صحت کے شعبے سے متعلق انتظامات کا جائزہ لیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق دورے کے دوران تحصیل ہیڈکوارٹر (ٹی ایچ کیو) ہسپتال پنڈدادنخان میں صفائی اور دیگر انتظامی امور پر مبینہ غفلت کا نوٹس لیتے ہوئے سپیشل اسسٹنٹ شعیب مرزا نے برہمی کا اظہار کیا، جس کے بعد میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈاکٹر عون محمد کو معطل کر دیا گیا۔

ای این ٹی اسپیشلسٹ ڈاکٹر عون محمد نہ صرف بطور کنسلٹنٹ مریضوں کا علاج کرتے رہے بلکہ اضافی ذمہ داری کے طور پر ایم ایس کے فرائض بھی انجام دے رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق وہ او پی ڈی، آپریشنز اور انتظامی امور کو بیک وقت سنبھال رہے تھے۔

ایم ایس کی معطلی کے بعد عوامی اور سماجی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ مختلف سماجی شخصیات اور سوشل میڈیا صارفین نے ڈاکٹر عون محمد کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر ہسپتال میں صفائی، بجلی یا دیگر انتظامی امور میں خامیاں موجود تھیں اور یہ معاملات نجی ٹھیکیدار کمپنیوں کے دائرہ کار میں آتے تھے تو ان کی ذمہ داری کا تعین شفاف تحقیقات کے ذریعے کیا جانا چاہیے، نہ کہ تمام ذمہ داری ایم ایس پر عائد کی جائے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ پنڈدادنخان جیسے پسماندہ علاقے کے سرکاری ہسپتال کو درپیش بنیادی مسائل، سہولیات کی کمی، افرادی قوت اور انفراسٹرکچر جیسے معاملات بھی توجہ کے متقاضی ہیں، جنہیں صرف انتظامی کارروائیوں سے حل نہیں کیا جا سکتا۔

عوامی و سماجی حلقوں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، اگر ڈاکٹر عون محمد نے اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے انجام دی ہیں تو انہیں انصاف فراہم کرتے ہوئے بحال کیا جائے، جبکہ جہاں بھی واقعی غفلت یا کوتاہی ثابت ہو وہاں اصل ذمہ دار افراد یا اداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

Exit mobile version