جہلم: تھانہ کالا گجراں کے علاقے میں ایک خاتون نے مبینہ طور پر ہراسگی اور بلیک میلنگ کا نشانہ بنائے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
متاثرہ خاتون مسماۃ (ا) نے جہلم پریس کلب میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اور ان کے شوہر کو واٹس ایپ پیغامات کے ذریعے مبینہ طور پر ہراساں اور بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ملازمت کے سلسلے میں گھر سے باہر جاتی ہیں اور بعض افراد ان کا مبینہ طور پر پیچھا کرتے ہیں، جس کے باعث وہ شدید ذہنی دباؤ اور خوف کا شکار ہیں۔
خاتون نے الزام عائد کیا کہ کالا گجراں کے علاقے میں چند اوباش عناصر پر مشتمل ایک مخصوص گروہ عرصہ دراز سے گھریلو خواتین اور نوجوان بچیوں کو ہراساں کرنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ ان کے مطابق مذکورہ افراد سوشل میڈیا کے ذریعے خواتین کی عزت اور وقار کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اور مبینہ طور پر تصاویر اور دیگر مواد شیئر کرکے انہیں ذہنی اذیت میں مبتلا کرتے ہیں۔
متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ چند روز قبل وہ اپنے شوہر کے ہمراہ کسی کام کے سلسلے میں جا رہی تھیں کہ راستے میں انہیں روکنے کی کوشش کی گئی۔ احتجاج کرنے پر مبینہ طور پر انہیں ہراساں اور بلیک میل کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا، جس کے باعث ان کی روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے تھانہ کالا گجراں میں تحریری درخواست جمع کروا دی گئی ہے اور متعلقہ حکام سے قانونی کارروائی کی اپیل کی گئی ہے۔
متاثرہ خاتون نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
شہری، سماجی اور عوامی حلقوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ خواتین اور بچیوں کو ہراساں کرنے، بلیک میلنگ اور سائبر ہراسگی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے تاکہ خواتین کو محفوظ ماحول میسر آ سکے اور وہ بلا خوف و خطر اپنی تعلیم، ملازمت اور دیگر معمولاتِ زندگی جاری رکھ سکیں۔
واضح رہے کہ مذکورہ الزامات متاثرہ خاتون کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں، جن کی حتمی تصدیق متعلقہ اداروں کی تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوگی۔
