جہلم میں بارش اور فلیش فلڈنگ سے تباہی، خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق، 428 افراد کو بچا لیا گیا، متعدد لاپتہ

جہلم میں طوفانی بارشوں اور فلیش فلڈنگ سے تباہی، خاتون سمیت تین افراد جاں بحق ، 428 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا جبکہ متعدد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
جہلم میں حالیہ شدید بارشوں اور پہاڑی نالوں میں طغیانی کے باعث سیلابی صورتحال نے تباہ کن شکل اختیار کر لی ہے۔ فلیش فلڈنگ کے نتیجے میں درجنوں دیہات زیر آب آ گئے ہیں، جن میں خورد بھمبر، رسول پور، ڈھوک بدر اور داراپور سمیت کئی علاقے شامل ہیں۔
تیز بہاؤ کے باعث مکانات منہدم ہو گئے، رابطہ سڑکیں بہہ گئیں اور روزمرہ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق ایک خاتون سمیت تین افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ متعدد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
@jhelumupdates جہلم میں بارش اور فلیش فلڈنگ سے تباہی، 428 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا، متعدد افراد تاحال لاپتہ #JhelumUpdates #LatestNews #fyp #breakingnews #foryoupagе #viralvideos #jhelum #latestupdates #pinddadankhan #sohawa #domeli #rain #flood #newsupdate #tiktoknews #flood #flashflood ♬ original sound – Jhelum Updates
پہاڑوں سے آنے والے برساتی نالوں کے تیز پانی نے درجنوں بستیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے بعد ضلعی انتظامیہ، پاک فوج، ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ اداروں نے مشترکہ ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ پاک فوج کے دستوں، ریسکیو اہلکاروں اور ضلعی عملے کی بروقت کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 428 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
اس ریسکیو آپریشن کی نگرانی ڈپٹی کمشنر جہلم میثم عباس نے خود کی۔ پاک فوج نے 94 افراد کو بچایا، ہیلی کاپٹرز کی مدد سے 160 شہریوں کو نکالا گیا جبکہ ریسکیو 1122 نے 174 متاثرین کو پانی سے نکال کر ریلیف کیمپس تک پہنچایا۔
ریسکیو کارروائیوں کے دوران ایک افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب جہلم پولیس کے ایک بہادر کانسٹیبل، حیدر، پانی میں پھنسے شہریوں کو بچاتے ہوئے خود سیلابی ریلے کی نذر ہو گیا۔ ڈی پی او جہلم طارق عزیز کے مطابق ان کی تلاش کا عمل جاری ہے اور ان کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ پولیس، ریسکیو اہلکاروں اور پاک فوج کے جوان مسلسل امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور مقامی افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی بھی متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے، جہاں انہوں نے سیلاب سے متاثرہ افراد سے ملاقات کی، امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور پاک فوج و ریسکیو اہلکاروں کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے متاثرین سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے اور بحالی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر چار مقامات پر فلڈ ریلیف کیمپس قائم کیے ہیں، جہاں متاثرہ افراد کو طبی امداد اور ضروری ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔ کیمپس میں متاثرہ خاندانوں کا طبی معائنہ جاری ہے اور بچوں، خواتین اور بزرگوں کو فوری سہولیات دی جا رہی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر میثم عباس کے مطابق برساتی پانی کے بہاؤ میں کمی آ رہی ہے اور حالات بتدریج قابو میں آ رہے ہیں۔ تاہم، امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں اور متعلقہ ادارے الرٹ پر ہیں تاکہ کسی بھی نئی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ حکومتی اداروں سے تعاون کریں اور محفوظ رہنے کے لیے دی گئی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔



