بھتہ نہ دینے پر سلاٹر ہاؤس میں داخلے پر پابندی، قصاب کی انصاف کی اپیل

جہلم: کالا گجراں کے رہائشی شبیر حسین ولد نذر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ وہ پچھلے 27 سالوں سے رزق حلال کما کر اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں، لیکن سلاٹر ہاؤس کے ٹھیکیدار عمر فاروق، فیصل قریشی، باسط اور ان کے منشی کرامت نے ان کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔

شبیر حسین نے بتایا کہ ٹھیکیدار اور اس کے کارندے لائیو اسٹاک کے ڈاکٹر عمران سے مبینہ ملی بھگت کرکے بھتہ وصولی کے لیے مختلف حربے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ 10 ہزار روپے ہفتہ وار بھتہ ادا کرتے تھے تو معاملات ٹھیک چل رہے تھے، لیکن بھتہ دینا بند کرنے کے بعد انہیں سلاٹر ہاؤس میں داخل ہونے اور جانور ذبح کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھتہ نہ دینے پر ٹھیکیدار کے ایما پر جھوٹی اور من گھڑت ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے۔ شبیر حسین کا کہنا تھا کہ وہ سرکاری فیس (200 روپے فی جانور) دینے کو تیار ہیں، لیکن ٹھیکیدار اور منشی کرامت زبردستی بھتہ وصول کرنے پر بضد ہیں اور انکار پر ان کے کام میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔

شبیر حسین نے مزید کہا کہ انہیں انصاف کے حصول میں ہر جگہ مافیا کی جانب سے رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری ہیلتھ، کمشنر راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر جہلم، اینٹی کرپشن اور محتسب پنجاب سے اپیل کی ہے کہ انہیں اس مافیا سے تحفظ فراہم کیا جائے اور بااثر افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

شبیر حسین نے مطالبہ کیا کہ انہیں انصاف فراہم کرتے ہوئے ان کی پیشہ ورانہ زندگی میں مداخلت بند کرائی جائے تاکہ وہ اپنے روزگار کو جاری رکھ سکیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button