جہلم میں ایل پی جی کی قیمتیں بے قابو، فی کلو 600 روپے تک فروخت، گھریلو سلنڈر 6500 روپے سے تجاوز کرگیا

جہلم: ضلع جہلم میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے گھریلو صارفین کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں گیس 600 روپے فی کلو، جبکہ شہری علاقوں میں 550 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔

دوسری جانب آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اکتوبر کے لیے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 279 روپے فی کلو مقرر کر رکھی ہے، تاہم مارکیٹ میں فروخت ہونے والی گیس کے نرخ سرکاری قیمت سے کہیں زیادہ بتائے جا رہے ہیں۔

ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے دعوے کے مطابق گیس کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ دور دراز علاقوں میں گھریلو سلنڈر کی قیمت ساڑھے چھ ہزار روپے سے تجاوز کرگئی ہے، جبکہ شہروں میں یہی سلنڈر تقریباً 6 ہزار روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ قیمتوں میں اس نمایاں فرق کے باعث صارفین کو گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

چھوٹے دکانداروں کا کہنا ہے کہ اوگرا کی جانب سے سرکاری نرخ مقرر کیے جانے کے باوجود مارکیٹ میں ایل پی جی مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہے۔ قدرتی گیس کی عدم دستیابی کے باعث ایل پی جی پر انحصار کرنے والے گھریلو صارفین، خصوصاً کم آمدنی والے خاندان، اس صورتِ حال سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

دکانداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور گیس کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں ایل پی جی مزید مہنگی ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق سرکاری نرخوں پر عمل درآمد نہ ہونے سے صارفین کو متوقع ریلیف نہیں مل رہا، جبکہ قیمتوں میں اضافے سے چھوٹے کاروباری افراد اور عام شہری دونوں مشکلات کا شکار ہیں۔

ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز اور چھوٹے دکانداروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس کی رسد بہتر بنانے کے لیے ایل پی جی کی فوری درآمد یقینی بنائی جائے اور سوئی ناردرن گیس کمپنی کے ٹرمینل کو بھی مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے تاکہ مارکیٹ میں فراہمی بہتر ہو اور قیمتوں میں استحکام آسکے۔

انہوں نے اوگرا اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ سرکاری نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنانے، ناجائز منافع خوری کی روک تھام اور صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے موثر نگرانی اور فوری اقدامات کیے جائیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button