جہلم میں رمضان المبارک کے دوران گداگروں کی بھرمار، شہری پریشان

جہلم شہر اور گردونواح میں رمضان المبارک کے دوران پیشہ ور گداگروں کی بھرمار ہوگئی، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مختلف بازاروں، چوک چوراہوں، لاری اڈہ، سول اسپتال، مین بازار، نیا بازار اور سبزی منڈی سمیت شہر کے دیگر علاقوں میں بھکاریوں نے قبضہ جما رکھا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ گدا گروں میں زیادہ تر تعداد خواتین، نوجوان لڑکیوں اور بچوں کی ہے، جو زبردستی خیرات مانگتے ہیں اور انکار کی صورت میں بدتمیزی پر اتر آتے ہیں۔ بعض نوجوان لڑکیاں نخرے دکھا کر اور مختلف انداز میں شہریوں سے خیرات طلب کرتی ہیں، جبکہ بعض مقامات پر گروہوں کی صورت میں بھی گداگر سرگرم نظر آتے ہیں۔

مساجد کے باہر بھی پیشہ ور بھکاریوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، جس کی وجہ سے نمازِ تراویح کے دوران نمازیوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نمازیوں کا کہنا ہے کہ عبادت کے دوران گداگر بار بار تنگ کرتے ہیں، جس سے یکسوئی میں خلل پیدا ہوتا ہے۔

سماجی، فلاحی اور عوامی حلقوں نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اور ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ گداگری ایکٹ کے تحت سخت کارروائیاں عمل میں لائی جائیں اور شہر کو پیشہ ور بھکاریوں سے پاک کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام اگر فوری اقدامات نہ کریں تو گداگری کا یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button