مضامین تو دو یا تین زیر طبع ہیں لیکن وقت کی نذاکت کو مد نظر رکھتے ہوئے عنوان کا انتخاب کیا کیو نکہ آج عالمی سطح پر منایا جانے والا یوم مزدور یا یوم مئی ہے اس لئے اپنی ترجیحات کو تبدیل کر کے فیصلہ لیا کہ اس مرتبہ یوم مئی کے موقع پر کوئی منفرد تحریر قارئین کی نذر کروں۔
یہ بات ہر ذی شعور محنت کرنے والا فرد جانتا ہے کہ یہ واقعہ 1886ء کا ہے جب امریکہ کے شہر شکاگو میں فولاد کے کارخانوں میں محنت کرنے والے مزدورں نے اپنے حقوق کے لئے جد وجہد کا آغاز کیا یعنی 140سال قبل پہلی مرتبہ امریکہ کے شہر شکاگو کے فولاد کے کارخانوں کو چلانے والے مزدور وں نے یومیہ 8گھنٹے کی ڈیوٹی کے مطالبہ کیا۔
یاد رہے کہ اس احتجاج تحریک میں 70ہزار مزدوروں نے شرکت کی جبکہ دو سال بعد 1886ء کو جب محنت کشوں نے اپنے حقوق کے حصول کے لیے احتجاج کر رہے تھے تو شرکا ء کی تعداد 7لاکھ تک پہنچ چکی تھی۔ مئی 1886ء کو جب مزدوروں نے اپنے حقوق کے لئے احتجاج کیا تو پولیس نے ان مزدوروں پر گولی چلا دی جس کے نتیجے میں ایک مزدور ہلاک جب کہ درجنوں مزدور زخمی ہو گئے۔
4مئی کو مزدور دوبارہ احتجاج کے لئے اکٹھے ہوئے اسی دوران مظاہرہ کی جگہ پر پولیس بھی جمع ہونا شروع ہو گئی، اچانک کسی شخص نے پولیس کی جانب دھماکہ خیز مواد پھینکا، ایک زور دار دھماکہ ہوا نتیجہ میں سات پولیس اہلکاران سمیت 4شہری ہلاک ہو گئے جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔
دھماکے کا الزام پولیس مزدور یونین پر عائد کیا اور مزدور رہنماؤ ں کو گرفتار کر لیا،21جون 1886ء کو کریمنل کورٹ میں مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی لیکن ملزمان کو صفائی تک پیش کرنے کی اجازت نہ دی گئی۔ اٹارنی جنرل نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ سماج کو بچانے کے لئے مزد و ر وں کا سخت سزا دی جائے جس پر 19اگست 1886ء کو عدالت نے سات مزدور رہنماؤں کو سزائے موت اور ایک کو عمر قید کی سزا سنائی۔
بعد ازاں شکاگو کے گورنر نے دو مزدوروں کی سزا ئے موت عمر قید میں تبدیل کر دی جبکہ باتی پانچ کی سزا کو برقرار رکھا، اسی دوران سزائے موت والے مزدوروں میں سے ایک نے جیل میں خود کشی کر لی، دیگر چار مزدور رہنماؤں کو 11نومبر 1887ء کو پھانسی کی سزا دے دی گئی۔ یعنی جام شہادت نوش کیا، ہمارے عقیدے کے مطابق اپنے حقوق کے مطالبے پر جان دینے والے کو شہید کا رتبہ دیا جاتا ہے۔
دو سال بعد 1889ء میں پیرس میں ’’ انقلاب فرانس ‘‘ کی صد سالہ یاد گاری تقریب کے موقع پر ریمنڈ لیونگ نے یہ تجویز رکھی کہ اگلے سال شکاگو کے مزدوروں کی برسی کے موقع پر عالمی سطح پر احتجاج کیا جائے ۔ 1890ء کو پہلی مرتبہ عالمی سطح پر یوم مزدور منایا گیا۔ 1891ء سے یکم مئی کو مزدوروں کا عالمی دن منانے کی منظوری دے دی گئی ، امریکہ کی ریاست اوریگن میں تو 1887ء کو ہی یوم مزدور منانے کی منظوری دے گئی تھی لیکن پورے امریکہ میں 1894ء سے وفاقی سطح پر یوم مزدور منانے کا اعلان کیا گیا ۔
یہاں تک تو چند تاریخی معلومات تھیں اب ذراوطن عزیز پاکستان میں پسے ہوئے ہر قسم کے معاشی، مادی اور فکری استحصال کا شکار طبقے کے متعلق چند حقائق مسائل اور تجاویز پیش کی جاتی ہیں۔ آج ڈیڑھ صدی ہونے کو ہے جد و جہد کا سلسلہ جاری ہے ۔
دنیا بھر کے مزدوروں کا فیصلہ ہے کہ جب تک پوری دنیا میں اصل دست دولت آفرین یعنی محنت کش طبقہ اقتدار حاصل کر کے نجی ملکیت کی لعنت اور جرائم سے پاک دنیا ( سوشلسٹ نظام معیشت کے تحت ) قائم نہیں کرلے گا اس وقت تک یہ جد و جہد جاری رہے گی۔
اسی حوالہ سے وطن عزیز پاکستان میں بھی آج منعقد کیے جانے والے یوم مئی کے موقع پر تمام بڑے شہروں میں روایتی انداز میں جلسے، جلوس اور ریلیاں منعقد کی جا رہی ہیں جن میں نہ صرف شکاگو کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا بلکہ مزدور محنت کش اس ایفائے عہد کا آعادہ کریںگے۔
اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے راقم نے بھی فیصلہ لیا ہے کہ اس مرتبہ اپنی اس تحریر کے ذریعے پاکستان کے کروڑوں استحصال زدگان پریہ حقیقت واضح کرنے کی جسارت کرے کہ اصل میں مزدور یا محنت کش ہوتا کون ہے ؟ سوال عمومی طور پر بہت آسان دکھائی دیتا ہے لیکن جب اس کی گہرائی پر غور ہو گا تو پتا چلے گا کہ اس کے معنی کس قدر عمیق ہیں ۔
ویسے تو پوری دنیا میں ہتھوڑا اور درانتی کو محنت کشوں کا عالمی نشان مانا جاتا ہے۔ اب چونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ترجیحات اور تقاضے تبدیل ہوتے ہیں اس لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب کے بعد بہت سے انسانی پیداواری رشتے کمپیوٹر سے جوڑ دیے گئے ہیں اس لئے آج محنت کی تعریف بھی بدل جانی لازمی ہے۔
قدیمی وقتوں سے تو محنتی اسے کہا جاتا تھا کہ جو دن بھر لا محدود وقت کے لئے کسی کے زر خرید ملازم یا غلام مزارہ کے طور پر کام کرتا تھا اور اس کی پوری زندگی کے لوازمات کی ذمہ داری اس کے مالک ، جاگیردار ، صنعت کار یا تاجر پر ہوتی تھی، آج کا تقاضا تھوڑا تبدیل ہو گیا ہے۔
یہاں پاکستان میں محنت کی اشکال مختلف ہیں اسی طرح استحصال کی شکلیں بھی بدل چکی ہیں۔ آج پاکستان میں کئی اقسام کے مزدور پائے جاتے ہیں ، مثلاً پرائیویٹ سکیٹر کے مزدور جو ایک، دو یا چند سو مزدوروں پر مشتمل صنعت سے وابستہ ہو تے ہیں ۔ پھر نجی شعبہ کے تحت قائم بڑے صنعتی یونٹوں کے مزدور ، اس کے علاوہ پرائیویٹ تعلیمی یا صحت کے اداروں کے ملازمین جو کہیں یا کسی طور پر منظم نہیں ہیں، نجی مالکان ان ملازمین کو کوئی قانونی یا اخلاقی مالی تحفظ دینے کو تیار نہیں ہوتے۔
اس کے علاوہ وہ جو یومیہ بنیادوں پر ہمارے ذاتی مکانات یا بڑی عمارات کی تعمیر کے شعبہ سے وابسطہ مستری، مزدور، بڑے شہری مراکز میں یومیہ طور مزدوروں کی تلاش کے لئے آنے والے بے روزگار افراد، وہ چھوٹے دوکاندار یا ریڑی بان، خوانچہ فروش سب شامل ہیں جن کی ماہانہ آمدنی سے ان کے بنیادی اخراجات پورے نہیں ہوپاتے۔ تو ہمارے انقلابی قائدین کو بھی موجودہ مسائل اور تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی ترجیحات کاانتخاب کرنا چاہیے۔
اس وقت پاکستان میں صرف 35فیصد آبادی شہری علاقوں میں آباد ہے جبکہ 65فیصد آدبادی کا حصہ تا حال قدیم روایتی استحصالی دیہاتی معاشرے میں رہنے پر مجبور ہے۔ اس لئے ہمیں اس پسے یا استحصال زدہ طبقے کو شعور دینے کے لئے کوشش کرنا ہماری بنیادی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے تا کہ اس پسے طبقے کو علم ہو سکے کہ اس کے بنیادی حقوق کیا ہیں، ان حقوق کی بازیابی اصل میں سوشلسٹ معاشی نظام میں پوشیدہ ہے، اگر وہ کسی سیاسی تنظیم یا مزدور انجمن کی حمایت کرے تو کیوں کرکر ے ؟
جیسا کہ پاکستانی ووٹرز کو بلاوجہ حکمران طبقات اپنے مشترکہ مفادات کی خاطر مختلف طریقوں سے تقسیم کرتے ہیںکیونکہ ہمارے استحصالی معاشی نظام کو جاری و ساری رکھنے کے لئے ان حکمران طبقات کا بنیادی منشور ہی یہی ہوتا ہے کہ ’’تقسیم کرو اورحکومت کرو‘‘ جبکہ برعکس اس کے ہمارے محکوم طبقات کا نعرہ یا منشور ہونا چاہیے کہ ’’ متحد ہو جاؤ اور عوامی جمہوریت قائم کرو‘‘یعنی (Unite and Democrate)کے لئے تیارکرنا چاہیے، اصل عوام کی جمہوریت کا پورا شعور دیا جائے کہ وہ سب صرف ایک طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں، سب مزدور ایک ہی ہیں کیونکہ سب کے مفادات یا بنیادی محرومیاں مسائل ایک طرح کے ہیں۔
پاکستان میں محکوم طبقات کو شعوری طور پر اس طرح پسماندہ رکھا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو برداشت تک نہیں کرتے ،کیا ہم سوچ نہیں سکتے کہ ہمارا پورا مزدور محنت کش طبقہ جس میں ہاتھ سے کام کرنے والوں سے بڑے اداروں کے فنی مشین کے کارکنان یا دفاتر میں کام کرنے والے معاونین سمیت سب ایک ہیں۔
ہر یوم مئی پر یہ نعرہ تو بلند کر دیا جاتا ہے کہ ’’دنیا بھر کے مزدور و ایک ہو جاؤ ‘‘اس عالمی نعرے میں بائیں بازو یا سوشلسٹ ( اشتراکی) نظام معیشت کے مفکرین /سیاسی پارٹیوں کے قائدین کو بھی نئے انداز میں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ وہ خود تو متحد ہو نہیں پائے آج تک آخر اس سوال کی کیا وجہ ہو سکتی ہے ۔
مثال سے بات کی وضاحت کی کو شش ہے کہ پڑوسی ملک بھارت لگ بھگ تیس کروڑ کی تعدا د میں مسلمان ہیں۔ جس طرح فرقہ واریت پاکستان میں تضاد کا شکار ہے اور دست و گریبان ہونے تک کو دکھائی دیتی ہے۔ اس فرقہ واریت کے بانیان مذہبی و دینی ادارے تو ہندوستان کے اندر ہیں لیکن پڑوسی بھارت کے اندر چونکہ سب مسلمانوں کا ایک ہی مخالف یا دشمن ہے تو وہاں مشترکہ دشمن ہونے کی وجہ سے سب مسلمان متحد ہیں کوئی فرقہ واریت انتہا پسندی کی طرف راغب دکھائی نہیں دیتی ۔
اسی طرح اس منفرد مضمون یا کالم کی وساطت سے یہ پیغام دینے کی قلمی جسارت کی جاتی ہے کہ آج پاکستان بھر کے محنت کشوں یا محنتی طبقات کے قائدین ، مفکرین پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ ہمارے بنیادی حقوق ( روز گار ، رہائش ، تعلیم اور صحت) کا استحصال کرنے والے تمام حکمران طبقات ، سیاسی پارٹیاں یا ادارے تو ایک لوٹ کھسوٹ پر مبنی نظام کے تحفظ کے لئے بہترین انداز میں متفق اور متحد ہیں ۔
قومی اسمبلی میں اراکین یا بڑے عہدیداران کے حقوق کے لئے کوئی قرار داد سامنے آتی ہے تو کبھی اختلاف پیدا نہیں ہوتا اسی طرح ہماری بائیں بازو پارٹیوں کے قائدین اور سوشلسٹ مفکرین ، مصنفین کو سوچنا ہو گا کہ جب نعرہ بلند کرتے ہیں کہ مزدورو ایک ہوجاؤ تو ساتھ یہ نعرہ بھی بلند ہونا چاہیے کہ ہم بائیں بازو کے سیاسی قائدین اور پارٹیوں کو متحد ہوکر مشترکہ دشمن کے خلاف مشترکہ جد دجہد کا آغاز کرنا چاہیے، مشترکہ محاذ قائم کرنا چاہیے اور ووٹر کو سیاسی معاشی عقل سے روشناس کر کے سیاسی جمہوری انداز میں انقلاب بذریعہ انتخاب کا راستہ اپنانے کی کوشش کا آغاز کرنا چاہیے ، کیونکہ فی زمانہ انقلابات کا طریقہ تبدیل ہو چکا ہے ۔
اشتراکی ریاست کی بجائے فلاحی ریاست کے قیام کی سعی کرنا ہو گی ۔ فلاحی ریاست وہ ہوتی ہے جس میں ہر فرد کو بلاامتیاز روگاز ، رہائش ، تعلیم اور صحت کی سرکاری طور ضمانت دی جاتی ہے جیسا کہ سکینڈینوین ریاستیں ، آپ خود اندازہ لگائیں کہ آج حکمران سیاسی جماعتوں کی طرح بائیں بازو کی تمام جماعتیں مخلص انداز میں متحد ہو کر صرف ایک سیاسی پارٹی قائم کر لیں اور اپنا نظام مزدور ، محنت کش طبقات کے برابر چندہ چلانے کا واقعی فیصلہ کرلیں تو کیاں ممکن نہیں کہ کافی حد تک وہ معاشی انقلاب ممکن ہو سکتا جس کی بنیاد آج کا یوم مئی ہمیں فراہم کرتا ہے ۔
اپنے قارئین پر یہ بات بھی واضح کی جا رہی ہے کہ جس معاشی نظام کی خاطر شکاگو کے شہداء نے قربانی دی تھی اس معاشی نظام کے نفاڈ کے بعد معاشرہ مختلف قسم کے معاشی ( رشوت، چوری وغیرہ) اور معاشرتی ( قتل وغیرہ ) جرائم کا مکمل خاتمہ ہو جاتا ہے ۔ عوامی جمہوریہ چین کے اشتراکی نظام کی وجہ سے وہاں آج قتل ، چوری ، ڈاکہ یا دیگر اخلاقی جرائم کا بالکل خاتمہ نظر آتا ہے۔یہ اس لئے ہے کہ فرد کو رہائش ، روزگار ، یکساں تعلیم اور صحت کی مکمل ضمانت دی گئی ہے۔
ہر فرد صرف ٹیکس دیتا نہیں ہے بلکہ فرد اپنی بنیادی ضرورتوں کے تفکرات سے آزاد ہے اور اوسط عمر 85/86سال ہے ۔ ہمارے عوام جن میں مزدوروں ، پسے طبقات کی اکثریت ہے کو علم ہونا چاہیے کہ ان کے مسائل کا حل صرف اور صرف سوشلسٹ ( اشتراکی ) نظام معیشت کے اندر ہے جس کی خاطر شکاگو کے مزدوروں نے ا پنی جانوں کا نذرانہ دیا تھا اور ہمیشہ کے لئے امر ہو گئے ہیں۔
آخر میں جبار آصف کے چند اشعار جو انہوں نے د نیا بھر کے دست دولت آفرین مزدوروں کی حمایت میں تحریر کیے ہیں :۔
ہاتھ پاؤں بھی بتاتے ہیں کہ مزدور ہوں میں
اور ملبوس بھی کہتا ہے کہ مجبور ہوں میں
سال سارا مرا کٹ جاتا ہے گم نامی میں
بس یکم مئی کو ہی لگتا ہے کہ مشہور ہوں میں
بات کرتا نہیں کوئی مری ایوانوں میں
سب کے منشور میں یوں ’’صاحب منشور ‘‘ ہوں میں
یوم مزدور ہے چھٹی ہے مرا فاقہ ہے
پھر بھی یہ دن تو مناؤں گا کہ مزدور ہوں میں
تحریر: پروفیسر افتخار محمود
فون نمبر 03065430285 – 03015430285
