سیاسی منظر نامہ

ضلع جہلم سمیت تحصیل پنڈدادنخان میں الیکشن 2024 کے حوالے سے گہما گہمی جاری ہے۔ مسلم لیگ ن کا ٹکٹ کس کو ملےگا، سب اپنی اپنی محفلیں لگا کر بحث و مباحثہ میں مصروف ہیں۔

کچھ لوگوں کے خیال کے مطابق راجہ مطلوب مہدی اور حاجی ناصر للِہ ہی ٹکٹ لینے میں کامیاب ہو جائیں گے جبکہ کچھ لوگوں کی رائے مختلف ہے، کچھ لوگوں کی قیاس آرائیوں کے مطابق اگر چوہدری فرخ الطاف حلقہ این اے 60 کی بجائے حلقہ این اے 61 سے الیکشن لڑتے ہیں تو ان کے ساتھ امیدوار برائے صوبائی اسمبلی حلقہ پی پی 26 بیریسٹر تیمور نواز جٹ ٹکٹ لینے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

بیرسٹر تیمور نواز جٹ ایک نوجوان قیادت کے طور پر علاقے میں اپنا نام بنانے میں کامیاب ہو چکے ہیں، بیرسٹر تیمور نواز جٹ نے بہت کم وقت میں اپنی قیادت مسلم لیگ ن اور لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں کافی متحرک سیاست دان کے طور سامنے آئے ہیں۔

ٹکٹ کی دوڑ میں اپنی دھرتی اپنا راج کے روح رواں سابق تحصیل ناظم چوہدری عابد اشرف جوتانہ بھی حلقہ این اے 61 سے مضبوط امیدوار ہیں اور انہوں نے حیران کن طور پر کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا وقت ختم ہونے سے کچھ لمحے پہلے صوبائی اسمبلی حلقہ پی پی 26 میں بھی اپنے کاغذات جمع کروائے تھے اس میں ان کی کیا منطق ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

کیا ان کو چوہدری فرخ الطاف کے ساتھ صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ ملنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے یا کوئی اور مقصد ہے کیونکہ چوہدری عابد اشرف جوتانہ کے چوہدری فرخ الطاف کے ساتھ دوبارہ اچھے روابط قائم ہو چکے ہیں۔ چوہدری عابد اشرف جوتانہ اور ان کا گروپ جس میں چوہدری افتخار احمد شہزاد ،کرنل (ر) زاہد حسین شیرازی، سابق ضلعی چیئرمین راجہ قاسم علی خان، چوہدری ناصر جاوید ورائچ آف سدھوال بھی صوبائی اسمبلی حلقہ پی پی 26 کے لیے اپنی اپنی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں اور علاقے بھر میں یہ گروپ اپنا ایک مقام اور اچھا خاصا ووٹ بینک رکھتا ہے۔

بہرحال ہمارے دونوں حلقوں میں بہت ہی دلچسپ صورتحال ہے، موسم سخت سرد جبکہ الیکشن کا ماحول سخت گرم ہے اور یہ ماحول اس وقت مزید گرم ہو جائے گا جبکہ مسلم لیگ ن کی طرف سے اپنے دونوں حلقوں کے ٹکٹ ہولڈر امیدواروں کا اعلان کیا جائے گا۔

سابق ایم این اے چوہدری فواد حسین کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے بعد مسلم لیگ ن کے لیے میدان بظاہر کلیئر ہے کیونکہ چوہدری فواد حسین اب بھی پاکستان تحریک انصاف کے متوقع امیدوار ہیں اور اگر ان کی اپیل لاہور ہائی کورٹ سے منظور ہوتی ہے تو وہ آنے والے الیکشن میں مسلم لیگ ن کو ٹف ٹائم دہ سکتے ہیں۔

فواد چوہدری کی غیر موجودگی میں بریگیڈیر مشاق پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ کے فیورٹ امیدوار بن سکتے ہیں اور صوبائی اسمبلی میں حبا فواد کے کاغذات نامزدگی واپس لینے کے بعد چوہدری فیصل فرید ایڈووکیٹ بھی پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن میں لڑ کر تمام امیدواروں کو ٹف ٹائم دہ سکتے ہیں۔

اگر مسلم لیگ ن چوہدری فرخ الطاف کو حلقہ این اے61 سے ٹکٹ دیتی ہے تو کیا راجہ مطلوب مہدی گروپ اور چوہدری عابد اشرف جوتانہ گروپ آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ کر اپنی ہی جماعت مسلم لیگ ن کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں؟ یہ ساری صورتحال ٹکٹ ملنے کے بعد ہی واضح ہوگی۔

جہاں مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف اپنا ووٹ بینک رکھتی ہے وہاں دو مرتبہ ایم پی اے منتخب ہونے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی اسمبلی حلقہ پی پی 26 کے امیدوار چوہدری نذر حسین گوندل بھی تحصیل پنڈدادنخان میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں اور ان کے دھڑے ہمیشہ ان کا ہی ساتھ دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

چاہے چوہدری نذر حسین گوندل کسی بھی سیاسی جماعت کی طرف سے الیکشن لڑ رہے ہوں ان کا ساتھ دینے کے لیے انتہائی متحرک امیدوار حلقہ این اے 61 پاکستان پیپلز پارٹی کی نوجوان قیادت پیر حمزہ کرمانی میدان میں موجود ہیں جنہوں نے ضلع جہلم میں پیپلز پارٹی کے ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور پنڈدادنخان میں موجودہ سپیکر پرویز اشرف کو بلا کر کامیاب کنونشن کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

اسی طرح ٹی ایل پی کے امیدوار عمران حیدر چشتی بھی اپنا خاموش ووٹ بینک رکھتے ہیں، ٹی ایل پی کا ووٹ بینک پچھلے الیکشن کے رزلٹ میں بھی واضح ہے، خاموش ووٹ سے مراد ٹی ایل پی کا وہ ووٹ ہے جو ان تمام سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کو متعدد بار آزما چکے ہیں لیکن ان کو ان نمائندوں سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا بلکہ ہمیشہ سیاسی جماعتوں کے امیدواروں نے اس جماعت اور ان کے ووٹرز کو پس پشت ہی رکھا گیا ہے۔

ٹی ایل پی کے امیدوار عمران حیدر چشتی کو مذہبی ووٹرز کا بھی بھرپور ساتھ حاصل ہے اور یہ پارٹی ابھی سے اپنی بھرپور الیکشن کمپین جاری رکھے ہوئے ہیں اور آنے والے الیکشن میں مسلم لیگ ن سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے لیے سخت حریف ثابت ہو سکتی ہے۔ مسلم لیگ ن کی طرف سے اپنے ٹکٹ ہولڈرز امیدواروں کے نام کا اعلان آج رات یا کل کسی بھی وقت متوقع ہے۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)
Exit mobile version