قرآن و سنت پر عمل کرنا اور راہنمائی حاصل کر کے زندگی بسر کرنا ہی اصل مقصد ہونا چاہیے، امیر عبدالقدیر اعوان

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ قرآن و سنت پر عمل کرنا اور ان سے راہنمائی حاصل کرتے ہوئے زندگی بسر کرنا ہی اصل مقصد ہونا چاہیے۔ یہ مناسب نہیں کہ ہم فرائض کو چھوڑ کر وظائف کو اصل دین سمجھنا شروع کر دیں اور اپنی غلطیوں کو جواز دینے کی کوشش کریں۔ یہ ایک بہت بڑا ظلم ہے۔ روزِ قیامت یہ جواز ہمارے کسی کام نہیں آئیں گے۔ یاد رکھیں کہ اپنی غلطی اور گناہ کو درست سمجھنا انسان کو توبہ کی توفیق سے محروم کر دیتا ہے۔

امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ اور سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعۃ المبارک کے روز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم پوری زندگی بھی سربسجود رہیں تو جو کچھ اللہ نے ہمیں عطا فرمایا ہے، اس کا شکر ادا نہیں کر سکتے۔ ہم ہر وقت اس کے مقروض ہیں۔ ہم زبانی اقرار کرتے ہیں کہ یہ دنیا فانی ہے، لیکن ہمارے اعمال اس حقیقت کی گواہی نہیں دیتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم مانتے ہیں کہ آخرت ہمیشہ کی زندگی ہے، لیکن اس کے باوجود ہم اللہ کے احکامات کی مکمل پابندی نہیں کرتے۔ ہم اپنی پسند کو ترجیح دیتے ہیں۔ جو حکم ہماری مرضی کے مطابق ہو، اسے تو مان لیتے ہیں، لیکن جو ہماری خواہش کے خلاف ہو، اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اللہ کریم کا کوئی حکم ایسا نہیں جو مخلوق کے فائدے کے لیے نہ ہو۔ احکاماتِ الٰہی مخلوق کی ضرورت ہیں۔ اللہ بے نیاز ہے، اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی اس کے حکم مانے یا نہ مانے بلکہ ان احکامات پر عمل کرنے والے کو ہی فائدہ پہنچے گا۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے مزید کہا کہ ہر معاملے میں اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ اسی میں انسانی فلاح اور معاشرے کی بقا موجود ہے۔ جو کچھ بھی کوئی کر رہا ہے، اللہ اسے جانتا ہے اور اس کے فرشتے اسے لکھ رہے ہیں۔ ایک دن سب کو اللہ کے حضور پیش ہونا ہے۔ ہر پہلو، چاہے ذاتی ہو یا اجتماعی، یہ دیکھنا چاہیے کہ ہمارے اعمال قرآن و سنت کے مطابق ہیں یا نہیں۔ اگر نہیں تو یہ خود پر ظلم اور زیادتی ہے۔ توبہ کا دروازہ واپسی تک کھلا ہے، لیکن جب وقت ختم ہو جائے گا، پھر موقع نہیں ملے گا۔ ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جائے گی۔

Exit mobile version