جہلم تا للِہ دورویہ سڑک کی تعمیر میں سست روی، بارشوں سے سڑک دلدل میں تبدیل، عوام مشکلات کا شکار

جہلم تا للِہ دورویہ سڑک کی تعمیر انتہائی سست روی کا شکار ہے، جس کے باعث مون سون کی بارشوں میں سڑک متعدد مقامات پر دلدل، مٹی، گارے اور کیچڑ میں تبدیل ہو گئی ہے۔
غیر ضروری تاخیر کے باعث بھاری گاڑیاں، ٹرک اور ٹرالر الٹنے اور پھنسنے کے واقعات روزانہ پیش آ رہے ہیں جبکہ ٹریفک جام معمول بن چکا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں موجود ٹریکٹر ڈرائیورز اس صورتحال سے خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں جبکہ چھوٹی گاڑیوں کے مالکان اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
زیر تعمیر سڑک کی سست رفتاری کے باعث مصری موڑ سے پنڈدادنخان تک مختلف مقامات پر سڑک پر پھینکی گئی مٹی بارش کے بعد کیچڑ اور گارے کے ڈھیروں میں بدل گئی ہے، جب کہ بعض مقامات پر کھدائی کے باعث گہرے گڑھے بن گئے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث جپسم، نمک، پتھر، سیمنٹ، سوڈا ایش اور کوئلہ سے لوڈ گاڑیاں روزانہ حادثات کا شکار ہو رہی ہیں۔
دلدل اور گڑھوں کی وجہ سے ڈرائیورز کو شدید مشکلات پیش آتی ہیں اور اکثر گاڑیاں پھنس جانے پر ٹریکٹر ڈرائیورز اور ڈوزر آپریٹر فی گاڑی پانچ ہزار روپے تک معاوضہ لے کر گاڑیاں باہر نکالتے ہیں۔ حالیہ شدید بارشوں کے بعد کئی کئی گھنٹے گاڑیاں پھنسے رہنے کے باعث مسافروں کو سخت پریشانی اور ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔
علاقہ مکینوں نے پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما، وزیرِ مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس اہم منصوبے کی تعمیر میں سست روی کا فوری نوٹس لیا جائے اور متعلقہ محکموں و ٹھیکیداروں کو ہدایت دی جائے کہ کام کی رفتار تیز کی جائے، تاکہ تحصیل پنڈدادنخان اور تحصیل جہلم کے عوام کو درپیش مشکلات کا جلد خاتمہ ہو سکے۔



