جہلم شہر میں سردی کی آمد کے ساتھ ہی گرم کپڑوں اور جوتوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہونے لگا ہے، جس کے باعث غریب اور متوسط طبقے کے افراد کے لیے سرد موسم سے بچاؤ کے لیے ضروری ملبوسات خریدنا مشکل ہوگیا ہے۔ شہریوں نے بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لینے اور قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی گرم کپڑوں، جیکٹس، سویٹرز، جرسیوں اور سردی سے بچاؤ کے لیے استعمال ہونے والے جوتوں کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس بار بھی سردی شروع ہوتے ہی گرم ملبوسات اور جوتوں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، جس سے پہلے ہی مہنگائی کا سامنا کرنے والے خاندانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
شہریوں کے مطابق روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ ایسے حالات میں سردی سے بچاؤ کے لیے گرم کپڑوں اور جوتوں کی خریداری بھی ایک بڑا مالی بوجھ بن گئی ہے۔ خصوصاً کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے بچوں اور دیگر اہلِ خانہ کے لیے موسم سرما کے ملبوسات خریدنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ گرم کپڑوں اور جوتوں کی قیمتوں کے مؤثر تعین اور نگرانی کا مناسب انتظام نہ ہونے کے باعث ان کی پریشانیوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق متوسط طبقہ اور غریب خاندان پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ سردی کے آغاز پر گرم ملبوسات کی قیمتوں میں اضافے نے ان کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گرم کپڑوں اور جوتوں کی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے، مارکیٹوں میں قیمتوں کی نگرانی موثر بنائی جائے اور عوام کو مناسب نرخوں پر موسم سرما کی ضروری اشیاء کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ غریب اور متوسط طبقے کے افراد بھی سردی سے محفوظ رہ سکیں۔
