جہلم: سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کوٹ لکھپت جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کو ریلیف فراہم کیا جائے اور مذاکراتی عمل میں پارٹی کی اصل قیادت کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی، اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ اور دیگر رہنماؤں کو بھی مذاکرات میں شریک کیا جانا چاہیے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں کو ریلیف ملنا چاہیے، تاہم حکومت اس سلسلے میں تیار دکھائی نہیں دیتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پی ٹی آئی میں ایسے افراد مذاکرات کر رہے ہیں جن کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ موجودہ قیادت اس صورتِ حال کی ذمہ دار ہے۔
فواد چوہدری نے الزام عائد کیا کہ حکومت ایسی کارروائیاں کر رہی ہے جن کے باعث مذاکراتی عمل آگے نہیں بڑھ پا رہا۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی میں وکلا کو اس امید پر شامل کیا گیا تھا کہ وہ عدالتوں سے انصاف حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے، لیکن وہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ اب عدالتوں سے ریلیف کی امید بھی کم ہو گئی ہے، جبکہ دوسری جانب موجودہ قیادت سیاسی جدوجہد کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتی۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ تحریک انصاف کو وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنا ہوگی۔ ان کے بقول، جب تک پارٹی موجودہ قیادت کو الگ نہیں کرتی، اس وقت تک کامیابی حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
فواد چوہدری نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی بھی نئے صوبے بنانے کے حامی ہیں اور ملک میں نئے صوبے قائم ہونے چاہئیں۔ انہوں نے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر زور دیا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر تحریک انصاف کی حمایت حاصل کی جائے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ 15 دسمبر سے قبل 28ویں آئینی ترمیم سامنے آ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں 15 سے 17 نئے صوبے بننے کا امکان ہے۔ فواد چوہدری کے مطابق اگر تحریک انصاف نئے صوبوں کے معاملے پر مؤثر سیاسی حکمتِ عملی اپنائے تو اس سے عمران خان کی رہائی کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔
گفتگو کے دوران فواد چوہدری نے پنجابی شعر کے ذریعے تحریک انصاف کی موجودہ سیاسی صورتِ حال پر بھی اظہارِ خیال کیا۔
