اقبال شناس بابا عرفان الحق

علامہ اقبال پر ہزاروں کتب قلمبند کی گئی ہیں۔ راقم نے کتاب”زندہ اقبال“ لکھنے سے پہلے کم و بیش چالیس کتب کا مطالعہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ سکالرز نے علامہ اقبال پر اعلیٰ معیار کی کتب تحریر کی ہیں مگر ان میں سے بہت کم ایسی کتب ہیں جو ابلاغ کا فریضہ پورا کرتی ہیں۔ عالمانہ فاضلانہ کتب نوجوانوں کو اقبال کے پیغام سے روشناس کرانے سے قاصر رہی ہیں۔
محترم کرنل ریٹائرڈ اشفاق احمد اور محترم محمد زبیر کی محبت اور شفقت کی وجہ سے مجھے بابا عرفان الحق کی منفرد اور معیاری کتاب ”درویش اقبال کی یاد میں“ بطور گفٹ موصول ہوئی۔ یہ کتاب بابا عرفان الحق کی بے ساختہ دلچسپ اور دل میں اتر جائے والی گفتگو پر مبنی ہے جس کی ترتیب اور تدوین محترمہ فرزانہ علی نے کی ہے۔ لافانی شاعر غالب نے کہا تھا:
ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور
بابا عرفان الحق کا منفرد انداز بیاں بھی اللہ کی خاص عطا ہے۔ میں نے اس کتاب کا مطالعہ شروع کیا تو اس نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا۔ بابا جی فرماتے ہیں کہ ”اقبال ایک تحریک ایک حرکت ایک حرارت ایک درد اور اجتماعیت کا نام ہے۔ اقبال نہ صرف آپ کو جگا رہا ہے بلکہ آنے والے وقت کی وضاحتیں بھی دے رہا ہے، خرابیاں بھی بتا رہا ہے۔ اقبال اللہ کے خاص بندوں میں سے ہے اس لیے کہ جب اللہ کسی پر مہربانی کرتا ہے تو اسے مستقبل بینی بھی عطا کرتا ہے۔ اس کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے۔ علامہ اقبال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق ہیں امت کا درد ان کے دل میں ہے اس درد نے علامہ کو سرفراز کر دیا۔
اقبال کی شخصیت بنانے والا بڑا عنصر قرآن مجید ہے مگر افسوس کہ آج کا مسلمان اس کی روشنی سے محروم ہے۔ اقبال کی زندگی پر یہ عظیم کتاب جس قدر اثر انداز ہوئی اس کا اظہار ان کی شاعری میں جا بجا نظر آتا ہے اور وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ان کی تمام تر فکر کا منبع قران حکیم ہے اور اس سے ہٹ کر کچھ نہیں۔“ راقم نے ”معاملات اولیاء و صوفیائ“ کے نام سے ایک کتاب مرتب کی ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں اولیاءکی جو نشانیاں بتائی ہیں وہ سب بابا عرفان الحق کی شخصیت میں موجود ہیں۔ پورے اعتماد اور یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ بابا عرفان الحق آج کے دور کے ولی اللہ ہیں۔
کتاب کی مرتب محترمہ فرزانہ علی لکھتی ہیں ”دراصل محترم عرفان الحق نے اقبال کی فکر کے کوڈ (بھید) کھولے ہیں مثلا اچھا انسان اور مومن بننے کے کوڈ انسانی ترقی کے کوڈ اللہ اور رسول سے محبت کے کوڈ مخلوق خدا سے وابستگی کے کوڈ اولاد کی تربیت کے کوڈ۔ رشتوں کو نبھانے اور پروان چڑھانے کے کوڈ۔ ہم اقبال کو محض شاعر سمجھ کر انجوائے کرتے ہیں بابا عرفان الحق صاحب اس سے بہت آگے کی بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اقبال کے پیغام کو سمجھنے اور اسے اپنی زندگیوں میں داخل کرنے کی ضرورت ہے۔“
بابا عرفان الحق کی اس کتاب میں بڑے دلچسپ موضوعات شامل کیے گئے ہیں۔ علامہ اقبال کے فلسفہ خودی، مرد مومن اور تصورِ شاہین پر عام فہم انداز میں تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے۔ علامہ اقبال نے مرد مومن کے بارے میں کہا۔
نرم دم گفتگو گرم دم جستجو
رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک باز
اس کی امیدیں قلیل اس کے مقاصد جلیل
اس کی ادا دلفریب اس کی نگاہ دل نواز
بابا عرفان الحق کہتے ہیں مومن وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں ڈوبا ہوا ہو جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ ہوں، جس کا پڑوسی اس سے محفوظ ہو۔ مومن وہ ہوگا جو نہ دھوکہ کھائے گا نہ دھوکہ دے گا۔ مومن وہ ہوگا جس کی فراست سے لوگ ڈریں گے کہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہوگا۔ مومن وہ ہوگا جو اپنے لیے پسند کرے گا وہی دوسروں کیلئے بھی پسند کرے گا۔ مومن وہ ہوگا جب بات کرےگا تو سچ بولے گا، وعدہ کرے گا تو پورا کرےگا اور امانت میں خیانت نہیں کرےگا۔
ایک بار محترم اشفاق احمد نے بابا عرفان الحق سے پوچھا کہ مسلمان اور مومن میں کیا فرق ہے۔ بابا جی نے کہا کہ جو خدا کو مانتا ہے وہ مسلمان ہے اور جو خدا کی مانتا ہے وہ مومن ہے۔ بابا عرفان الحق فرماتے ہیں کہ توحید کا جس طریقے سے پرچار علامہ اقبال نے کیا، اللہ کو یہ انداز بڑا پسند آیا اور ان کے معزز اور معتبر ہونے میں توحید کے فلسفے کی تعبیر کا بڑا عمل دخل ہے کیونکہ توحید کو جس خوبصورت انداز میں علامہ اقبال نے بیان کیا ہے اس سے پہلے کسی کو یہ اعزاز نصیب نہیں ہوا۔ بابا جی نوجوانوں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ وہ علامہ اقبال کے شاہین بنیں۔
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
پرواز ہے دونوں کی ایک ہی فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
شاہین کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کسی کا مارا ہوا شکار نہیں کھاتا بلکہ اپنا شکار خود کرتا ہے۔ شاہین اللہ پر توکل کرتا ہے اور اپنا آشیانہ بھی نہیں بناتا۔ شاہین دوربین اور دور نگاہ ہوتا ہے۔ بابا عرفان الحق کہتے ہیں کہ ان کی یہ دعا ہے کہ اللہ کرے پاکستان کے تمام نوجوان شاہین بن جائیں۔ اگر ایسا ہو جائے تو پاکستان بھی دنیا کا عظیم ملک بن سکتا ہے کیونکہ اس کو اللہ تعالی نے ہر قسم کی نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ اس کتاب میں بابا جی نے علامہ اقبال کے معروف اشعار کی تعبیر اور تشریح بھی بیان فرمائی ہے۔
بابا جی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ میں اکثر یہ بات یاد کرتا ہوں کہ تین چیزیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسترد کر دیں۔ جب ولید بن مغیرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر تمہیں عورت پسند ہے تو مکے کی سب سے حسین عورت سے تیرا نکاح کرتے ہیں اور اگر تمہیں دولت پسند ہے تو ہم سب مل کر تجھے دولت اکٹھی کر کے دیتے ہیں اور اگر تمہیں سرداری چاہیے تو ہم تمہیں اپنا سردار مانتے ہیں۔ تم یہ دعوت کا کام چھوڑ دو ہمارے خداو¿ں کو برا کہنا چھوڑ دو۔ اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میرے ایک ہاتھ پر چاند رکھ دو اور ایک ہاتھ پر سورج رکھ دو تو بھی میں دعوت حق سے باز نہیں آؤں گا۔
علامہ اقبال نے پیغام دیا تھا کہ جمہوریت سماجی اور روحانی ہونی چاہیے جس کا مفہوم یہ ہے کہ جمہوریت ایسی ہو جو پورے سماج کے لیے مفید ہو اور اس کا نظام اخلاقیات کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا ہو۔ پاکستان کے نوجوان شخصیت پرستی اور اندھی تقلید کی بجائے علامہ اقبال اور قائد اعظم کے تصورات کے مطابق سرمایہ دارانہ جمہوری نظام کی تشکیل نو کریں تاکہ جمہوریت کا پھل خاندانوں کی بجائے عام آدمی تک پہنچ سکے۔
بابا جی عرفان الحق درست فرماتے ہیں کہ پاکستان اس دن تبدیل ہوگا جس دن پاکستان کے افراد اپنی سوچ کو تبدیل کر لیں گے۔ اپنی نوعیت کی یہ منفرد مستند اور معتبر کتاب بک کارنر جہلم نے بڑے خوبصورت انداز میں شائع کی ہے۔ علامہ اقبال کے عاشق اس کتاب سے استفادہ کر سکتے ہیں۔



