مذہبی جماعت کا احتجاج؛ دریائے جہلم کے پلوں کو رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا گیا

جہلم: مذہبی جماعت کے احتجاج کے پیش نظر پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کر کے دریائے جہلم کے پلوں کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کر دیا۔ پل بند ہونے سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، مسافر ذلیل و خوار ہونے لگے۔ 15 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق مذہبی جماعت کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر پولیس نے سخت سیکیورٹی اقدامات کرتے ہوئے دریائے جہلم کے دونوں پلوں کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے۔ پل بند ہونے سے جی ٹی روڈ پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں جبکہ شہریوں، خواتین، بچوں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق تحریک لبیک پاکستان (TLP) کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر انتظامیہ نے جی ٹی روڈ پر دریائے جہلم پلوں کے دونوں اطراف کنٹینرز اور رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ دونوں پلوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کا عمل مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق گاڑیوں کی طویل قطاروں کے باعث مسافر گھنٹوں پھنسے ہوئے ہیں۔ کئی شہری پیدل سفر کرنے پر مجبور ہوگئے جبکہ ٹریفک جام نے معمولاتِ زندگی کو مفلوج کر دیا۔

ذرائع کے مطابق پولیس نے مختلف علاقوں میں کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مار کر 15 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن نے امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے دفعہ 144 کا نفاذ کر دیا ہے۔ ڈی سی آفس سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ پابندی 8 اکتوبر سے 15 اکتوبر 2025 تک مؤثر رہے گی۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ دفعہ 144 کے تحت ضلع جہلم کی حدود میں ہر قسم کے سیاسی و غیر سیاسی اجتماع، احتجاج اور ریلیوں پر پابندی ہوگی۔ ڈپٹی کمشنر نے خبردار کیا کہ حکم عدولی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Exit mobile version