پاکستان کے دیہی معاشرے میں صدیوں پرانی ونگار اک رسم تھی کہ پیار کا منفرد بہانہ تھا۔
وِنگار کو پنجاب کے دیہات میں ونگار اور پختون علاقوں میں بلاندرہ اور شر کےنام سے بھی جانا جاتا ہے، یہ محبت بانٹنے والی رسم جو ان لوگوں میں اتحاد و یکجہتی کا بہت بڑا سبب تھی اب یہ رسم جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے دم توڑتی دکھائی دیتی ہے۔
ونگار کالفظی مطلب کوئی بھی ایسا کام جو ایک فرد کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور اس کو سر انجام دینے کے لئے زیادہ لوگوں کی ضرورت پیش آئے، لوگ مل کر بلا معاوضہ اجتماعی کام سر انجام دیں اسےان علاقوں میں اس پیار بھرے لفظ ونگار کا نام دیا جاتا ہے۔
چونکہ ان دیہی علاقوں میں جب جدید زرعی آ لات نہیں تھے اور لوگوں کو کھیتی باڑی کے کام ہاتھوں سے کرنا ہوتے تھےتو لوگ ونگار سے ایسے کام سر انجام دیتے، ان علاقہ میں بیلوں کے ذریعے ہل چلائےجاتے۔ نالی پھیرنا، کھیت کو ہموار کرنا۔ گندم، مونجی، کماد، سبزی اور چنےکی بوائی، کٹائی اور گہائی کا مرحلہ ہمیشہ ونگار ڈال کر کیا جاتا، پڑِ پکائے جاتے۔ یہ سارے کام چونکہ مشقت طلب ہوتے تھے اور ان کاموں کے لئے زیادہ افرادی قوت کی ضرورت ہوتی تو سب کاشتکار مل کر باری باری ایک دوسرےکا کام کرتے تھے ۔
اس کے علاوہ ان علاقوں میں جب کچے مکانات کی چھتوں کی تعمیر یا مرمت کی جاتی مٹی اور گارا چھت پر چڑھایا جاتا یا نئی چھت ڈالنے کا سخت مشقت طلب کام ہوتاتواس موقع پر بھی وِنگار بلا کر یہ کام کیا جاتا تھا ۔
یہ سارے کام کرنے کے لئے لوگ خوشی خوشی جوش اور ولولے سے اپنے دوست احباب کے بلانے پر پہنچتے اور سب اکٹھے ہو کر کام کو تکمیل تک پہنچاتے ایسے موقعوں پر کبھی کبھی ڈھول والے کو بھی بلایا جاتا تھا اور کام کے دوران دیہاتی رقص کرتے اور ڈھول کی تھاپ پر نعرے لگاتے ہوئے اپنا کام بھی کرتے اور اپنے ونگارے دوستوں سے مقابلہ بھی کرتے اور خاص طور پر گندم کی کٹائی کے موقع پر ڈھول کی تھاپ پر درانتی چلانے اور کٹائی میں اپنی مہارت پر فخر کرتے۔
نوجوان بزرگ کام کرتے ہوئے مذاق مذاق میں ایک دوسرے پرفقرے کستے، اس پر کوئی سیخ پاں نہ ہوتا بلکہ سبھی اس سے لطف اندوز ہوتے اور ہنسی مذاق کے ساتھ بخوشی سارا کام بھی ہو جاتا تھا ۔
اب بھی کہیں کہیں یہ رسم موجود ہے لیکن بہت کم کیونکہ جدید زرعی آلات اور زمانے کی ترقی نے ان سارے کاموں کو آسان بنا دیا ہے۔ اب مشینری نے جہاں کام کو آسان بنا دیا ہے وہیں اس رسم کو بھی دیہی معاشرے سے مٹانے کا کردار ادا کیا ہے۔ ایک وقت تھا کہ جیسے ہی مرغ نے اذان دے کر طلوع سحرکا اعلان کیا اور مساجد سے اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوئیں تو گھروں میں بندھے بیلوں کے گلوں میں لٹکتی گھنٹیاں بجنے لگتیں ان گھنٹیوں کی خوبصورت اوازیں سنے اب عشرے بیت گئے ہیں۔
ہر گھر سے جفاکش، محنتی کاشتکار اپنے بیل اور اونٹ لے کر گاؤں، محلہ کے چوک میں جمع ہوتے، پھر ایک سیدھی لائن میں کھیتوں کی جانب رواں دواں، ایک کاشتکار کے کھیت میں پہنچ کر سب ہل جوت لیتے۔ یہ سلسلہ ’’ونگار‘‘ کہلاتا تھا اور ونگار ونگار میں لوگوں کو تفریع کا بھی موقع میسر ہوتا تھا۔
ونگار کے یہ مناظر ہمیں آج سے دو تین دہائی قبل دیہاتوں میں عام طور پر نظر آتے تھے، جہاں کبھی کام اور دکھ درد سانجھے ہوتے تھے۔
کھیتوں کی تیاری، گندم مونجی، کماد اورچنےکی کٹائی، گہائی، شادی بیاہ کی تقریبات، علاقہ کے فلاحی کام جیسےکنوے کی صفائی وغیرہ سب مل جل کر ونگار جیسی رسموں سے کئے جاتے تھے۔ جس شخص نے ونگار لینا ہوتی وہ شام کو ہی سب کو اطلاع کر دیتا کہ صبح اس کا کونسا کام ہے اور آپ نے کیا کچھ ساتھ لے کر کہاں پہنچنا ہے۔ اس بلاوے پر کوئی فرد انکار نہیں کرتا تھا اور سب لوگ خوشی خوشی صبح اجتماعی طور پر کام کے لیے چلے جاتے تھے جس سے دنوں کاکام لمحوں میں ہوجاتا تھا اور اتفاق، اتحاد اور محبت بھی قائم رہتی۔
ونگار والے دن ونگاریوں کا ناشتہ، دوپہر اور شام کا کھانا ونگار کے لئے بلانے والے کے ذمہ ہوتا۔ دیسی گھی کا حلوہ، مکھن سے بنے پراٹھے اور گڑ ان ونگاروں کی پہچان ہوتا۔ خواتین عموماً ونگار میں کام تو نہیں کرتی تھیں لیکن ونگار میں شامل لوگوں کے لیے خالص دیسی مزیدار کھانے پکاتی تھیں بچوں کے ذمہ کھانا کھیت میں پہنچانا ہوتا تھا۔
پانی مٹی کےبنے ٹھنڈے گھڑوں میں اونٹوں کے کچاوے یا گھوڑے کی پشت پر ڈالے واہنڈے میں رکھ کر علی الصبح ہی روانہ کر دیا جاتا اور یہ بچوں کی ڈیوٹی ہوتی کہ چھوٹی جھاڑیوں کے سائے میں رکھے، گھڑوں کی دیکھ بھال کرتے اور سارے ونگاروں کو وقفے وقفے سے پانی پلاتے۔ سارے ونگارے کام کے اختتام پر خوشی مناتے اور ان میں سے کچھ بھنگڑا ڈال کر باقی دوستوں کی تھکن دور کرنے کا سبب بنتے۔
پاکستانی معاشرے میں یہ رسم ونگار اک رسم تھی کہ پیار کا بہانہ تھا۔ کھانا ہمیشہ روائتی اور دیسی ہوتا تھا جس میں تندوری گداز روٹی، چاٹی کی لسی، مکھن کے ساتھ گڑ لوازمات شامل کیے جاتےجس سےونگار والے کام کے ساتھ ساتھ لذیذ مزیدار کھانے سے بھی لطف اندوز ہوتے تھے۔
اتنا ٹھنڈا اور مزیدار پانی کہ برف اور واٹر فلٹر کی کوئی بھی ضرورت نہیں تھی۔ بچوں کے فرائض میں ایندھن اکٹھا کر کے اگ جلا کر حقہ بھرنا بھی شامل تھا۔
کھانا ہمیشہ روائتی اور دیسی ہوتا تھا جس میں تندوری گداز روٹی، چاٹی کی لسی، مکھن کے ساتھ گڑ یا شکر لازمی شامل ہوتے۔ کچھ لوگوں کی ونگار میں چٹنی اضافی آ ئٹم تھا۔ دوپہر کو اکثر لوگ مسی روٹیاں ( چنے کی روٹی) پکاتے اس روٹی کے آٹے میں پیاز آلو اور دیگر لوازمات شامل کیے جاتےجس سےونگار والے کام کے ساتھ ساتھ لذیذ مزیدار کھانے سے بھی لطف اندوز ہوتے تھے۔
یہ وہ دور تھا جب دلوں میں خلوص، لہجوں میں اپنائیت، اور رشتوں میں محبت باقی تھی۔ جب بڑوں میں شفقت اور چھوٹوں میں ادب کی خوبصورت عادت تھی۔
جدید گلوبلائزیشن کی اہمیت و افادیت اپنی جگہ لیکن ان کے فوائد سے بھی انکار ممکن نہیں لیکن ہم اپنائیت سے دور ہوتے جارہے ہیں۔
ایک مقامی شاعر ” درد” نے کیا خوب کہا ہے۔
"جڈاں تنگ حالات دی جنگ چھڑ پئی”
"تینوں "درد” ونگار نہ لبھی
