جہلم ریلوے کالونی کے غیر آباد کوارٹروں سے لاکھوں، کروڑوں مالیت کی لکڑی اور لوہے کا سامان چوری

جہلم: ریلوے کالونی جہلم کے غیر آباد کوارٹروں سے لاکھوں، کروڑوں مالیت کی لکڑی اور لوہے کا سامان چوری کئے جانے کی اطلاعات، سامان میں انگریز دور کی کھڑکیاں، دروازے، الماریاں، شہتیر ، لوہے کے گیٹ شامل ہیں۔ ریلوے کالونی کھنڈرات کا منظر پیش کرنے لگی۔ باقی ماندہ کوارٹرز کی حفاظت کا بھی کوئی معقول انتظام نہیں۔

تفصیلات کے مطابق جہلم کی ریلوے کالونی کم و بیش ایک سو سال پرانی ہے۔ کالونی کے کوارٹروں اور کوٹھیوں کی باقاعدہ دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے بیشتر کواٹرز کو خطر ناک قرار دے کر ملازمین سے خالی کروالیا گیا تھا۔خالی کروائی جانے والی ان عمارتوں میں 2کنال پر محیط افسران کے ، ڈاک بنگلے، ٹی آئی او ، اے ای این کے بنگلے، اور درجہ چہارم سمیت افسران کے درجنوں سے زائد کوارٹرز شامل ہیں۔

ان رہائشگاہوں پر انگریز دور کی کھڑکیاں ، دروازے ، روشن دان جو اعلیٰ قسم کی لکڑی اور لوہے سے تیار کئے گئے تھے ، لوہے کے بنے ہوئے گیٹ اور گارڈر شہتیر لگے ہوئے تھے جو اتار کر ملازمین دیدہ دلیری کے ساتھ غائب اور فروخت کرنے میں مصروف ہیں۔

انتہائی باو ثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ملازمین لوہے کی اشیا کباڑیوں کو اونے پونے داموں فروخت کر دیتے ہیں،جو گوجرانوالہ اور لاہور بھجوائے جاتے ہیں۔اسطرح نایاب لوہے کو بھٹیوں میں پگھلا کر قیمتی اشیاء تیار کرتے ہیں یہ بھی معلوم ہوا ہے قیمتی اشیاء کی خورد برد میں ریلوے کی مقامی انتظامیہ بھی شامل ہے۔

مزید انکشاف ہوا ہے کہ متروکہ ٹیلیگراف سٹم کی ترسیلی لائنوں میں لگی ہوئی میلوں لمبی تانبے کی تاریں بھی ریلوے افسران اور ملازمین کی سرپرستی کی وجہ سے چوری کر لی گئی ہیں۔ خورد برد کئے گئے لکڑی اور لوہے کی سامان کی مالیت کروڑوں ، اربوں روپے میں بتائی جاتی ہے۔ ریلوے کے درجنوں سے زائد کوارٹرا بھی بھی بے یارو مددگار نظر آرہے ہیں، ریلوے کی عمارتوں کی نگرانی کا کوئی معقول انتظام نہیں۔

شہریوں نے وفاقی وزیر ریلوے ڈویژنل سپرٹنڈنٹ راولپنڈی ڈویژن سمیت ارباب اختیار سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیاہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button