جہلم شہر اور گردونواح میں سبزی اور پھل فروشوں کی جانب سے مبینہ طور پر من مانے نرخ وصول کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث شہری شدید پریشانی اور معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ انتظامیہ کی عدم توجہی اور مؤثر نگرانی کے فقدان کے باعث گراں فروشی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ صارفین روزمرہ اشیائے خورونوش مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں۔
شہریوں کے مطابق سبزی اور پھل فروشوں نے حکومتی نرخنامے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی مرضی کے ریٹ مقرر کر رکھے ہیں، جس کے نتیجے میں عام صارفین کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ نئی تشکیل دی گئی پیرا فورس بھی مارکیٹوں میں سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد یقینی بنانے میں مؤثر کردار ادا کرتی دکھائی نہیں دے رہی۔
شکایت کنندگان کے مطابق متعدد سبزیاں اور پھل سرکاری نرخوں کے مقابلے میں 100 سے 150 روپے فی کلو تک زائد قیمت پر فروخت کیے جا رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پیاز سرکاری قیمت 85 روپے فی کلو کے بجائے 120 روپے فی کلو، ٹماٹر 135 روپے کے بجائے 200 روپے فی کلو جبکہ روٹی 14 روپے کے مقررہ نرخ کے مقابلے میں 20 روپے تک فروخت کی جا رہی ہے۔
عوامی حلقوں کا موقف ہے کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں پہلے ہی گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو چکا ہے، ایسے میں سبزیوں، پھلوں اور دیگر اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گراں فروشی میں ملوث دکانداروں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث صورتحال روز بروز سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ مارکیٹوں میں سرکاری نرخناموں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے، گراں فروشی کے مرتکب عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور عوام کو مہنگائی کے اس اضافی بوجھ سے نجات دلانے کے لیے فوری عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو صارفین کا استحصال مزید بڑھے گا اور عام شہریوں کے لیے روزمرہ ضروریات زندگی کی خریداری مزید مشکل ہو جائے گی۔
