سانجھ پنجابی بیٹھک کے زیر اہتمام کتاب "میں بیٹی” کی تقریب رونمائی و ایوارڈز کی پروقار تقریب

جہلم: بین الاقوامی ادبی تنظیم "چراغ پاکستان” اور "سانجھ پنجابی بیٹھک” سیالکوٹ کے اشتراک سے کتاب "میں بیٹی” کی تقریب رونمائی و ایوارڈز کی تقسیم کی پروقار تقریب دی سیوی اسکول جہلم میں منعقد ہوئی، جس میں علمی، ادبی، سماجی اور صحافتی حلقوں کی نامور شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔

تقریب کی صدارت ڈاکٹر محمد خضر حیات خان ایڈووکیٹ (چیئرمین عاشق حسین خان میموریل آرگنائزیشن، حاصل پور) نے کی، جب کہ تقریب کی نظامت کے فرائض سید شاہجہان احمد نے ادا کیے۔ تلاوت قاری محمد مبشر خان نے پیش کی اور نعت مزدلفہ عادل نے پیش کی۔

محفل کی میزبان ادبی و سماجی شخصیت آئمہ درانی نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہیں فروغ ادب کے لیے خدمات کے اعتراف میں "دخترِ جہلم” کا خطاب اور فخرِ ادب ایوارڈ دیا گیا۔

تقریب میں چھ کتابوں کے مصنف اور ماہرِ تعلیم محمد برہان الحق جلالی اور صدر پنجاب ایجوکیٹرز ایسوسی ایشن ضلع جہلم، ماہر تعلیم و شاعر احسان شاکر کو پروفیسر اصغر سودائی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس موقع پر سانجھ پنجابی بیٹھک کے بانی ظفر بٹ نے مادر ملت فاطمہ جناح ایوارڈ، اصغر سودائی میموریل ایوارڈ اور بیسٹ پرفارمنس ایوارڈ بھی مختلف شخصیات میں تقسیم کیے۔

کتاب "میں بیٹی” کے شریک مصنفین کو بھی اظہار خیال کا موقع دیا گیا اور انہیں چراغ ادبی ایوارڈز و اسناد سے نوازا گیا۔ پروفیسر ڈاکٹر جنید محمود نے اپنے خطاب میں کہا کہ "ادب کی پہچان مٹی کی طرح ہوتی ہے، سادہ، سچّا اور مضبوط۔ کتاب میں شامل تمام لکھاریوں نے بیٹی کے کردار کو خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے”۔

تقریب کے مہمانانِ خصوصی میں صدر پریس کلب سوہاوہ بابر کیانی، چیف ایڈیٹر روزنامہ صدائے مسلم طاہر محمود مرزا، اور چوہدری ارسلان جاوید مونن (سینئر نائب صدر مسلم لیگ ن یوتھ ونگ، جہلم) نے بھی خطاب کیا اور ادب و معاشرتی شعور کو اجاگر کرنے پر منتظمین کو خراج تحسین پیش کیا۔

مفتی محمد شیر خان نے بیٹی کے اسلامی مقام و مرتبے پر روشنی ڈالی اور مسلمان بیٹی کو باعثِ فخر قرار دیا۔

آخر میں صدارتی خطاب میں ڈاکٹر خضر حیات خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ "میں بیٹی” بیسویں انتھالوجی کتاب ہے، جس میں دنیا بھر سے 55 لکھاریوں نے حصہ لے کر ان بیٹیوں پر مضامین تحریر کیے جنہوں نے پاکستان کا نام روشن کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر کاشف اعوان اور ڈاکٹر خضر حیات خان کی کتب کو سال کی بہترین کتاب ایوارڈ سے نوازا گیا۔

تقریب کے اختتام پر مہمانوں کو پرتکلف ضیافت دی گئی اور میزبان آئمہ درانی نے کتاب "میں بیٹی” کی نقول شرکاء میں تقسیم کیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ تنظیم آئندہ بھی ادب، تعلیم اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایسی تقریبات کا انعقاد جاری رکھے گی۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button