پہلی خاتون وزیر اعلیٰ پنجاب کے نام پہلا گرامی نامہ

پہلی خاتون وزیر اعلیٰ پنجاب کے نام پہلا گرامی نامہ، ان غرباء و مستحقین کی طرف سے جو’’ نگہبان رمضان پیکج‘‘ سے محروم رہ گئے ۔

با لکل یقین ہے کہ زیر قلم سطور کے شائع ہونے تک بہت دیر ہو چکی ہو گی جیسا کہ مرزا اسد اللہ خان غالب کے ذیل کے شعر میں ترجمانی ہو رہی ہے:

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن !
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

لیکن شاید آئندہ وہ کچھ نہ ہو جو اس دفعہ ہوا ہے۔ صوبہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی خاتون وزیر اعلیٰ ہونے کا شرف ملا، محترمہ مریم نواز صاحبہ کو جنہوں نے اپنی ترجیحات میں بہت کچھ پیش کیا لیکن ان ترجیحات کی اہمیت ان کے نزدیک تو بہت ہو گی لیکن تھوڑا گہرائی سے غور کرتے ہوئے عیاں ہوتا ہے کہ جو ترجیحات محترمہ نے پیش کیں ہیں اس میں بہت کچھ کرنا تاحال باقی ہے۔

اس سلسلے میں ایک قلمی کی طرف سے یہ مشورہ دینے کی جسارت ہے کہ کوئی بھی سکیم قائم کرنے سے پہلے محترمہ کو اپنے چچا سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور موجودہ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے کم از کم مشورہ کر لینا چاہیے کیونکہ ان میں بہت سی انقلابی قسم کی صلاحیتیں فطری طور پر پائی جاتی ہیں.

جیسا کہ پیش کی جانے والی مثال سے واضح ہو جائے گا کہ صوبہ پنجاب بھر کے تمام سرکاری ثانوی تعلیمی اداروں (گورنمنٹ ہائی سکولز) میں جو کمپیوٹر لیب دکھائی دے رہی ہیں یہ صرف دور دراز کے دیہاتی علاقہ کے ایک گورنمنٹ ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر کی طرف سے ارسال کردہ ایک عام درسی کاپی کے کاغذ پر لکھے ہوئے دستی رقعہ میں دی گئی تجویر کا نتیجہ ہے۔

رقعہ میں تجویز دی گئی تھی کہ اس ہیڈ ماسٹر کے زیر نگرانی دور دراز کے گورنمنٹ ہائی سکول میں تقاضائے حاضرہ کے مطابق کمپیوٹر لیب فراہم کی جائے تو جب وہ رقعہ کسی بھی ذریعہ سے موصوف کے سامنے پہنچا تو سابق وزیر اعلیٰ المعروف خادم اعلیٰ پنجاب اور موجودہ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے بیک جنبش یہ الفاظ ادا کیے کہ کمپیوٹر لیب صرف ایک سکول میں کیوں ہو گی؟ اب صوبہ پنجاب کے ہر سرکاری ثانوی تعلیمی ادارہ میں فراہم کی جائے گی جو آج پورے صوبہ پنجاب بھر کے گورنمنٹ ہائی سکولوں میں واضح دکھائی دیتی ہے۔

ہر سکول میں ایک آئی ٹی ٹیچر تعینات ہو چکا ہے اور کتنے ہونہار طلباء طالبات استفادہ کر چکے ہیں یا کر رہے ہیں، اس لئے یہ مثال ہی محترمہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے لئے بڑی رہنمائی کا کردار ادا کرسکتی ہے۔

دوسری مثال یہ کہ سابق وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کے دور حکومت میں ہی ایک اور سکیم بھی بلا تخصیص ، بلا تمیز پورے صوبہ کی تمام یونین کونسلوں میں 15بیواؤں کو فی یونین کونسل ایک گائے مفت فراہم کی گئی، صرف اس شرط پر کہ اس بیوہ کے چھوٹے بچے سرکاری تعلیمی ادارہ میں زیر تعلیم ہوں۔

پورے صوبہ میں کئی بیوائیں اپنے قدموں پر گھڑی موجود ہیں۔ ان دونوں مثالوں سے موصوفہ موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب بہترین رہنمائی حاصل کر سکتی ہیں۔ کیونکہ صرف ’’نگہبان رمضان پیکج‘‘ ہی کو لے لیں تو حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ حکومت کی طرف سے محکمہ صحت پنجاب کے پولیو ورکرز کو جو فہرستیں فراہم کی گئیں ان کا اب تک علم نہیں کہ وہ فہرستیں کہاں سے جاری کی گئیں اور ان فہرستوں میں منتخب شدہ مستحقین کا اندازہ کیسے لگایا گیا کہ یہ لوگ مستحق برائے امداد’’ نگہبان رمضان پیکج‘‘ ہیں۔ ان فہرستوں میں کئی مرد وخواتین کے ایسے نام بھی شامل ہیں جو اب اس دنیا سے جہان فانی سے روانہ ہو چکے ہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنی ولولہ انگیز تقریر میں 60ہزار روپے ماہانہ آمدنی والوں کو مستحق برائے نگہبان قرار دیا یہاں تک کہ اپنی شعلہ فشانی میں 70ہزار اور 80ہزار ماہانہ آمدنی والوں کو بھی شامل مستحقین قرار دے دیا۔ محترمہ کے مذکورہ انتخاب کے نتیجے میں ہمارے معاشرے کے اصل مستحقین کی طرف سے یہ گرامی نامہ تحریر کیا جا رہا ہے۔

شاید یہ سطور کسی وقت نو منتخب وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز تک پہنچ جائیں اور ان پر حقائق واضح ہو جائیں کہ’’ نگہبان رمضان پیکج‘‘ جن کو دیا گیا ان میں سے اکثریت اس پیکج کی حق دار ہی نہیں ہے۔ اصل میں مذکورہ پیکج کے حق داران میں صفر سے ماہانہ 10 ہزار روپے تک ہو۔

کیونکہ زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر عوامی منصوبے مرتب کیے جائیں تو نتیجے مثبت آسکتے ہیں لیکن اس وقت جس’’ نگہبان رمضان پیکج‘‘ کی تقسیم جن لوگوں میں جاری ہے اگر معاشرے کو حقیقی نگاہوں سے دیکھا جائے تو حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ ہونا کیا چاہیے تھا اور ہوکیا رہا ہے؟ بنیادی مستحقین کون ہیں اور نگہبان رمضان پیکج سے استفادہ حاصل کون کر رہا ہے؟

اس لئے یہ سطور صرف توجہ دلاؤ سطور ثابت ہوں، اگر یہ محترمہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی میز تک پہنچ سکیں تو شاید آئندہ کسی ایسی سکیم کو تیار کرنے سے پہلے وہ عوامی رائے کا احترام کریں گی اور اپنی ترجیحات قائم کرنے سے پہلے منصوبے کے سیاق و سباق پر کئی زاویوں سے غور کریں گی تا کہ صوبہ پنجاب کے بارہ کروڑ عوام میں سے زیادہ سے زیادہ واقعی مستحقین مستفید ہو سکیں اور نگہبان رمضان پیکج جیسی مجوزہ سکیموں سے زیادہ گریز ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔

کیونکہ اس طرح کی سکیمیں معاشی اعتبار سے غیر پیداواری ہوتی ہیں اور معاشرے میں بہکاری پن کو فروغ دینے کے مترادف ہوتی ہیں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے منصوبوں یا سکیموں کو بالائے طاق ہی رکھا جائے تا کہ عوام کی سوچ سے خوئے گدائی کم ہو سکے ۔

اگر یہ کہا جائے کہ نگہبان رمضان جیسا پیکج دے کر وزیر اعلیٰ پنجاب عوام میں پائی جانے والی سیاسی نفرت کم کر سکیں گی تو بعید از قیاس ہے کیونکہ عوام یا رائے دہندگان کی ترجیحات ہمیشہ اس طرح کی سکیمیں یا منصوبے ہر گز نہیں ہوتے، عوام کے سامنے چند ایک ذاتی نوعیت کی ترجیحات ہوتی ہیں یا پھر کوئی ’’نک دا کوکا‘‘ جیسا بے معنی ٹرینڈ ہوتا ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ ہوا چل گئی تھی۔

اپنی بنیادی ترجیحات میں نومنتخب وزیر اعلیٰ پنجاب نے یوتھ لون اور ہر ضلع میں ایک دانش سکول کے قیام کی بات کی تھی تو عوام سے منتخب شدہ نمائندہ کی ترجیحات میں تخصیص نہیں ہونی چاہیے، دوسرے لفظوں میں عوام اور معاشرے کے اندر تقسیم اور سپیشل پن کو فروغ دینے سے گریز کرنا چاہیے، جو کچھ بھی کیا جائے وہ سب کے لیے کیا جائے۔ جیسا کہ سابق وزیر اعلیٰ خادم اعلیٰ ، موجودہ وزیر اعظم پاکستان کی طرف پنجاب بھر کے گورنمنٹ ہائی سکولوں میں کمپیوٹر لیب کی فراہمی کی اولاذکر سطور میں کیا گیا ہے اس سے بڑی مثال نہیں ملتی۔

اس امید کے ساتھ شاید زیر نظر سطور کسی نہ کسی ذریعہ سے موجودہ نومنتخب وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ تک پہنچ پائیں اور آئندہ کے لئے موجودہ’’ نگہبان پیکج‘‘ کی تقسیم یا انتخاب کے لئے جو معیار مقرر کیا گیا اور بہت سے سقم رہ گئے وہ دہرا نہیں پا ئیں گے۔

تحریر: پروفیسر افتخار محمود
فون نمبر 03065430285 – 03015430285

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)
Exit mobile version