جہلم: گھی اور کوکنگ آئل بنانے والی کمپنیوں نے مہنگائی کے مارے عوام پر ایک اور ضرب لگا دی۔ بجٹ کے بعد ازخود من مانے اضافے کے ساتھ گھی و تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا۔
مختلف برانڈز نے فی لیٹر و فی کلو قیمتیں 550 روپے سے بڑھا کر 560 سے 570 روپے تک کر دی ہیں، جب کہ غیر معروف کمپنیوں کا گھی و تیل 350 روپے سے بڑھ کر 400 روپے فی لیٹر میں فروخت کیا جا رہا ہے۔
کریانہ ایسوسی ایشن سے وابستہ دکانداروں کا کہنا ہے کہ بجٹ سے قبل ہی بعض کمپنیوں نے قیمتیں بڑھانے کے اشارے دے دیے تھے، جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے گھی و آئل مہنگے داموں فروخت ہونا شروع ہو گیا۔ دکانداروں کے مطابق گھی کمپنیوں کا یہ اقدام صارفین کے ساتھ صریح زیادتی اور استحصالی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔
دکانداروں اور شہریوں نے شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اشیائے خوردونوش خصوصاً گھی و آئل کی قیمتوں پر کنٹرول کے لیے سخت اقدامات کرے اور من مانے نرخ مقرر کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے اس ناجائز اضافہ کا نوٹس نہ لیا تو دیگر اشیاء کی قیمتیں بھی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جو کہ پہلے سے مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ بن جائے گا۔
