جہلم: ضلع جہلم میں سرکاری نرخنامے پر اشیائے خوردونوش کی فروخت خواب بن کر رہ گئی۔ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس سرکاری ریٹ لسٹ پر عملدرآمد کرانے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ شہری مہنگے داموں روزمرہ اشیاء خریدنے پر مجبور، جبکہ دکاندار نرخناموں کو ہوا میں اڑا رہے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر جہلم کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر اشیائے خورونوش کی قیمتوں کا تعین کر کے سرکاری ریٹ لسٹ جاری کی جاتی ہے۔ اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی صورت میں مجاز حکام تعینات ہیں، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ شہر اور گردونواح میں آٹا، میدہ، چینی، دالیں اور دیگر ضروری اشیاء دکانداروں نے اپنی مرضی کے نرخوں پر فروخت کرنا معمول بنا لیا ہے۔
دکانداروں کا مؤقف ہے کہ انہیں منڈیوں سے اشیاء خود سرکاری نرخوں سے مہنگی ملتی ہیں، ایسے میں گراں فروشی کا الزام ان پر ڈالنا ناانصافی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک انتظامیہ ہول سیل مارکیٹ اور منڈی کی سطح پر قیمتوں کو کنٹرول نہیں کرے گی، اُس وقت تک چھوٹے دکاندار سرکاری نرخ پر اشیاء فروخت کرنے سے قاصر رہیں گے۔
شہری حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف چھاپہ مار کارروائیوں اور جرمانوں پر اکتفا کرنے کے بجائے قیمتوں کے اصل منبع، یعنی ہول سیل مارکیٹ اور سپلائی چین پر نظر رکھی جائے تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔
