جہلم میں گرین الیکٹرک بس سروس عوام کو مکمل ریلیف دینے میں ناکام، مسافروں کو مشکلات کا سامنا

جہلم: ضلع جہلم میں شروع کی گئی الیکٹرک بس سروس عوام کو مکمل ریلیف فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے، جبکہ انتظامی کمزوریوں، غیر پیشہ ورانہ رویوں اور ناقص نظام کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ سفری سہولیات تو مہیا کر دی گئی ہیں، تاہم ان کے نتائج تسلی بخش نہیں آ رہے۔ بسوں میں زیادہ رش کے باعث روزانہ دھکم پیل کا سلسلہ معمول بن چکا ہے، جس سے خواتین، بزرگوں اور دیگر مسافروں کو مشکلات پیش آتی ہیں۔
شہری حلقوں کے مطابق بس عملے، خصوصاً ڈرائیورز اور کنڈکٹرز کو مسافروں کے ساتھ خوش اخلاقی اور پیشہ ورانہ انداز اپنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ اکثر شکایات ان کے نامناسب رویوں سے متعلق سامنے آ رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایک بڑی وجہ یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ بسوں میں غیر ضروری سفر کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے، جس کے باعث حقیقی ضرورت مند مسافروں کو جگہ نہیں ملتی۔ بعض شہریوں نے تجویز دی ہے کہ ہر مسافر سے مناسب کرایہ وصول کیا جائے تاکہ غیر ضروری رش میں کمی آ سکے۔
شہریوں نے یہ شکایت بھی کی کہ بسیں منزل پر پہنچ کر طویل وقت تک کھڑی رہتی ہیں جبکہ دروازے بند ہونے کی وجہ سے باہر مسافروں کا ہجوم جمع ہو جاتا ہے۔ جیسے ہی دروازے کھلتے ہیں تو بھگدڑ مچ جاتی ہے اور بعض اوقات مسافر زخمی بھی ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ بسوں میں مسافروں کو مسلسل آنے اور بیٹھنے کی اجازت ہونی چاہیے تاکہ رش اور بدنظمی سے بچا جا سکے۔
دینہ تا جہلم روٹ پر چلنے والی بسوں کے حوالے سے بھی شہریوں نے شکایات کرتے ہوئے کہا کہ فوجی فاؤنڈیشن سٹاپ پر بسوں کے درمیان زیادہ وقفہ ہونے کے باعث مسافروں کو طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر دوسری بس کو پہلے سے جی ٹی روڈ پر موجود رکھا جائے تو مسافر بغیر کسی تاخیر کے آسانی سے سفر جاری رکھ سکتے ہیں۔
مزید برآں، دوران سفر بعض رکشہ ڈرائیوروں کی جانب سے الیکٹرک بسوں کو تنگ کرنے اور بدنظمی پیدا کرنے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں، جس پر شہریوں نے انتظامیہ سے فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
شہری حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ الیکٹرک بس سروس کے نظام کو بہتر، منظم اور عوام دوست بنانے کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ حکومت پنجاب کا یہ منصوبہ حقیقی معنوں میں کامیاب ہو سکے۔



