ایک ہفتے کے دوران 14 اشیائے ضروریہ کی قیمت میں اضافہ

فروری کے آخری ہفتے مہنگائی کی شرح میں 1 اعشاریہ 27 فیصد اضافہ ہوگیا جب کہ سالانہ بنیاد پر یہ شرح 32 اعشاریہ 73 فیصد ہوگئی، 22 تا 29 ہزار روپے ماہانہ آمدن رکھنے والا طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا جس کے لیے مہنگائی کی شرح 38 اعشاریہ 07 فی صد رہی۔

ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے کے دوران 14 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ 12 اشیا کی قیمتوں میں کمی ہوئی اور 25 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران آلو انڈے، لہسن، بیف اور دال مونگ سمیت کئی اشیاء مہنگی ہوئیں جن میں گیس کی قیمتوں میں 15 اعشاریہ 52 فیصد، پیاز کی قیمتوں میں 2 اعشاریہ 87 فیصد، انڈے کی قیمتوں میں1 اعشاریہ 32 فیصد، آلو کی قیمتوں میں0 اعشاریہ 68فیصد، دال مونگ کی قیمت میں 0 اعشاریہ 27فیصد، بیف کی قیمت میں 0 اعشاریہ 32 فیصد اضافہ ہوا۔

ٹماٹر کی قیمتوں میں 11 اعشاریہ 48 فیصد، دال ماش کی قیمتوں میں 0 اعشاریہ 97 فیصد، ایل پی جی کی قیمتوں میں 0 اعشاریہ 85 فیصد، کوکنگ آئل کی قیمتوں میں 0 اعشاریہ 44فیصد، سادہ روٹی کی قیمتوں میں 0 اعشاریہ 35فیصد، گڑ کی قیمت میں 0 اعشاریہ 33فیصد، ویجیٹیبل گھی کی قیمتوں میں0 اعشاریہ 22فیصد اور دال مسور کی قیمتوں میں 0 اعشاریہ 21 فیصد کمی واقع ہوئی۔

اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں 27 اعشاریہ 35فیصد، 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں 31 اعشاریہ 53فیصد، 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں 38 اعشاریہ 07فیصد، 29 ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح 34 اعشاریہ 68فیصد رہی۔

اسی طرح 44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح 29 اعشاریہ 61 فیصد رہی۔

Exit mobile version