حضرت عثمان بن عفانؓ کی محبت رسول، سخاوت اور قربانی تاریخ اسلام کا روشن باب ہے، سید خلیل حسین کاظمی

جہلم: حضرت عثمان بن عفانؓ کی رسول کریم ﷺ سے محبت بے مثال اور قابلِ رشک تھی۔ نبی اکرم ﷺ کی دو صاحبزادیوں کا یکے بعد دیگرے آپؓ کے عقد میں آنا اور بیعت رضوان میں شامل ہونا اس محبت کی روشن دلیلیں ہیں۔

ان خیالات کا اظہار معروف مذہبی اسکالر سید خلیل حسین کاظمی نے جہلم پریس کلب کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عثمان غنیؓ ذوالنورین نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی سربلندی، محبت رسول ﷺ، اور خدمت خلق میں گزاری۔ آپؓ نسباً بھی نبی کریم ﷺ سے قریبی تعلق رکھتے تھے، آپ کی نانی حضور اکرم ﷺ کے والد ماجد کی حقیقی بہن تھیں، اس لحاظ سے حضرت عثمانؓ رسول اللہ ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔

سید خلیل حسین کاظمی نے مزید بتایا کہ حضرت عثمانؓ کی سخاوت اور فیاضی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ساڑھے چودہ سو سال قبل آپؓ نے مسلمانوں کے لیے "بئرِ رومہ” (رومہ کا کنواں) اور اس سے ملحقہ کھجوروں کا باغ وقف کیا۔ یہ کنواں آج بھی مدینہ منورہ کی میونسپلٹی میں حضرت عثمانؓ کے نام سے رجسٹرڈ ہے اور اس کی آمدنی ایک خاص فنڈ میں جمع ہوتی ہے، جو آج بھی یتیموں اور غرباء میں تقسیم کی جاتی ہے۔ یہ عمل ان کے لیے قیامت تک جاری رہنے والا صدقہ جاریہ بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت عثمان بن عفانؓ حافظِ قرآن، عالمِ قرآن، جامعِ قرآن اور ناشرِ قرآن تھے۔ آپؓ نے اسلامی ریاست کے استحکام، قرآن مجید کی تدوین و اشاعت اور خلافتِ راشدہ کی وسعت کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔

سید خلیل حسین کاظمی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 18 ذوالحجہ جمعتہ المبارک کے دن، 82 سالہ خلیفہ سوم حضرت عثمانؓ کو انتہائی بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ باغیوں نے آپؓ کو چالیس روز بھوکا پیاسا رکھا، اور روزہ کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے شہید کر دیا۔ حضرت عثمانؓ نے مدینہ منورہ میں خونریزی نہ ہونے کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، اور شہادت کو خوشی سے گلے لگا لیا۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ حضرت عثمان بن عفانؓ کی سیرت ہمیں اخلاص، قربانی، سخاوت، اور دین کی خدمت کا درس دیتی ہے، جو آج بھی امت مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button