مرد مجاہد

شعبہ صحافت میں دو دہائی سے زیادہ عرصہ منسلک رہنے کے دوران مختلف محکموں سے وابستگی رہی۔ اس وابستگی اور روابط میں اچھے اور برے دونوں طرح کے تجربات ہوئے۔ وقت اور تجربے نے اس بات کو ثابت کیا کہ ہر محکمے، خصوصاً سرکاری محکموں پر تنقید جو بحیثیت عوام ہم سب اپنا حق سمجھتے ہیں آسان کام ہے۔ لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ان اداروں میں محنتی، ایماندار اور فرض شناس افراد کی کمی نہیں، جو نہ صرف ادارے بلکہ ملک و قوم کی بھلائی اور تعمیر و ترقی کے لیے ہر دم تیار رہتے ہیں۔
انہی عظیم شخصیات میں ایک شخصیت نے آج مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کیا۔ یہ عظیم شخصیت نہ صرف بلند کردار کی حامل ہے بلکہ اپنے محکمے میں ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں، جن کی بدولت وہ دلوں میں گھر کیے ہوئے ہیں۔ جی ہاں! میری مراد سابق ڈی پی او جہلم، مردِ مجاہد طارق عزیز سندھو ہیں۔
اگر طارق عزیز سندھو صاحب کی تعلیمی کارکردگی اور ادبی خدمات پر نظر دوڑائی جائے تو انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا اور 2005ء میں سول سروس کا حصہ بنے۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی، آئی بی اے کراچی سے ایم بی اے، اور قائدِ اعظم یونیورسٹی سے ایم فل کی ڈگریاں حاصل کیں۔
زمانہ طالب علمی کے دوران تخلیقی اور ہم نصابی سرگرمیوں میں مصروفِ عمل رہے۔ سالانہ تراجم کی کتاب The Recreation کے مدیر بھی رہے۔ ایچی سن کالج لاہور میں بطور لیکچرار خدمات سرانجام دیں۔ ادبی ذوق کی تکمیل کے لیے انہوں نے فرانز کافکا کے ناول The Castle کا اردو میں ترجمہ بھی کیا۔
اپنی محکمانہ خدمات کے دوران بطور ڈی پی او جہلم طارق عزیز سندھو نے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ ضلع جہلم میں 13 جنوری 2005ء سے 25 فروری 2026ء کے مختصر عرصے کے دوران بہترین کمانڈ اینڈ کنٹرول کا مظاہرہ کرتے ہوئے محکمے کا مورال بلند کیا اور عوام کے لیے جہلم کو محفوظ بنایا۔
مزید برآں تھانہ صدر، تھانہ للِہ کی نئی عمارت، دینہ لائسنس برانچ، خدمت مرکز (پنڈدادنخان)، پولیس لائن میں ڈے کیئر سنٹر، شہدا کی یادگار، ماڈل بیرک کے علاوہ اپ گریڈ اینڈ رینویشن میں ڈی پی او آفس، ڈی ایس پی صدر آفس، باربر شاپ، ٹیلرز شاپ اور لیڈی ہاسٹل شامل ہیں۔
2025ء میں خدمت مرکز سے 32,689 افراد نے استفادہ حاصل کیا۔ 48,314 افراد کو لائسنس جاری کیے گئے۔ پولیس ٹریننگ اسکول نے 1,106 طلبہ کو ٹریننگ دی۔ شکایات سیل کے ذریعے 2,711 شہریوں کی شکایات پر عمل درآمد کیا گیا۔ اسی طرح 2025ء کے دوران ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی مد میں 83,567 چالان کے ذریعے 7 کروڑ 83 لاکھ 46 ہزار روپے سرکاری خزانے میں جمع کروائے گئے۔ پولیس ویلفیئر پروجیکٹ میں اضافے کے ساتھ ساتھ محکمانہ اخراجات میں واضح کمی کی گئی، جو یقیناً آپ کی قائدانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
خلاصہ کلام یہی ہے کہ بلا شبہ ایسے باکردار اور محنتی افراد کی موجودگی ملک کے اہم محکمہ جات کی تعمیر و ترقی کے لیے خوش آئند ہے۔ یہ تحریر کرتے ہوئے میرے ذہن میں بار بار یہ شعر آ رہا ہے:
یہ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)



