جہلم: محکمہ جنگلات کی بڑی کارروائی کرتے ہوئے 70 لاکھ روپے مالیت کی قیمتی لکڑی پکڑ لی۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کے تحت محکمہ جنگلات جہلم کی جانب سے لکڑی اسمگلنگ کے خلاف بڑی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ کارروائی کے دوران قیمتی لکڑی سے بھرا کنٹینر موٹروے بھیرہ انٹرچینج کے قریب روک کر تحویل میں لے لیا گیا۔ برآمد شدہ لکڑی کی مالیت تقریباً 70 لاکھ روپے بتائی جا رہی ہے۔
ڈویژنل فاریسٹ آفیسر جہلم سدھیر احمد کے مطابق محکمہ جنگلات کو مخبر سے اطلاع ملی کہ ایک کنٹینر نمبر JT-4443 (سندھ) راولپنڈی سے لاہور کی طرف قیمتی لکڑی کی اسمگلنگ کے لیے لے جایا جا رہا ہے۔ اطلاع ملتے ہی کنزرویٹر آف فاریسٹ پوٹھوہار سرکل کی ہدایت پر چکوال اور جہلم فاریسٹ ڈویژن کی ٹیمیں کلر کہار اور بھیرہ انٹرچینج پر تعینات کی گئیں۔
چکوال ٹیم نے کلر کہار کے مقام پر گاڑی روکنے کی کوشش کی لیکن ڈرائیور نے گاڑی نہ روکی۔ بعد ازاں جہلم ڈویژن کے DFO سدھیر احمد مغل اور SDFO وسیم شہباز عالم اپنی ٹیم کے ہمراہ بھیرہ انٹرچینج پہنچے، جہاں موٹروے پولیس اور ڈپٹی کمشنر جہلم کی معاونت سے شام کو کنٹینر کو روکا گیا اور اسے موٹروے سے باہر نکال کر قبضے میں لے لیا گیا۔
کنٹینر سے چیڑ، پڑتل اور کیل کی نایاب لکڑی کی بڑی مقدار برآمد ہوئی۔ موقع پر ڈرائیور نے فاریسٹ پرمیٹ پیش کیا تاہم جانچ پڑتال پر معلوم ہوا کہ پرمیٹ کی تاریخ میں جعلسازی اور ٹیمپرنگ کی گئی تھی۔
اصل پرمیٹ کی تاریخ 1 اکتوبر تا 6 نومبر 2025 تھی جبکہ پیش کیے گئے پرمیٹ پر تاریخ 10 نومبر 2025 درج کی گئی تھی، جو جعلسازی کا واضح ثبوت ہے۔
کنزرویٹر آف فاریسٹ اور ڈی ایف او جہلم کے مطابق فاریسٹ ایکٹ 1927 کی دفعہ 52 کے تحت کنٹینر اور لکڑی کو مزید احکامات تک سیز کر دیا گیا ہے اور لکڑی کی مکمل مقدار اور معیار کی تکنیکی جانچ کی جائے گی۔
ڈویژنل فاریسٹ آفیسر سدھیر احمد کا کہنا ہے کہ یہ محکمہ جنگلات پنجاب کی جانب سے اب تک کی سب سے بڑی کارروائی ہے۔ جنگلاتی وسائل کی حفاظت کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری رہے گا۔
